
22 ستمبر ، 2025
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت کیمپس میں طوفانی بارشوں اور ایسے دیگر حالات کی وجہ سے کیمپس بند ہونے کی صورت میں آن لائن کلاسز کا اجراء لازمی ہوگا، دفتر کے اوقات میں طلبہ و عملے کے محفوظ انخلاء یا کیمپس میں عارضی پناہ کے اقدامات، اور ٹرانسپورٹ، طبی امداد، کونسلنگ اور ہنگامی ریلیف کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے۔یہ پالیسی جامعہ کی 37ویں اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے کی۔ اجلاس رجسٹرار آفس کے تحت منعقد کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے تعلیمی پروگراموں اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے کئی اہم اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور منظوری دی گئی۔اہم فیصلوں میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے کالج آف آکیوپیشنل تھراپی کو یونیورسٹی کے الحاق شدہ کالج کا درجہ دیا گیا۔ مزید برآں، ملحقہ کالجز کے لیے کوالٹی اشورنس روڈمیپ، انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں “قرآن فہمی” کورس کا اضافہ، اور ایچ ای سی کی ہدایات کے مطابق ہر انسٹیٹیوٹ کے لیے سابق طلبہ چیپٹرز قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔
=============================
آئی بی اے کراچی پر منی لانڈرنگ کا الزام، FIA نے ریکارڈ طلب کرلیا
22 ستمبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی( سید محمد عسکری ) وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن( آئی بی اے) کراچی سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے سیکشن 25 کے تحت 22ستمبر کو معلومات اور ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے کراچی زون نے آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر فنانس سے ایک خط میں کہا ہے کہ یہ ایجنسی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کی ایک فوجداری انکوائری کر رہی ہے تاکہ مبینہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی جانچ پڑتال کی جا سکے، جو کہ مختلف بنیادی جرائم بشمول فوجداری بدعنوانی، کرپشن اور عوامی اداروں کے فنڈز (خصوصاً وفاقی و صوبائی ایچ ای سی کے گرانٹس اور انڈومنٹ فنڈز \[FIBAT وغیرہ]) میں کرپٹ پریکٹسز کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم سے منسلک ہیں۔الزام یہ ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی میں آئی ٹی اور انفراسٹرکچر کے کنٹریکٹس اور پروکیورمنٹس منتخب اور مخصوص ٹھیکیداروں و وینڈرز کو دیے گئے، اور ان سے حاصل ہونے والے مجرمانہ منافع کو ایگزیکٹو بینیفشریز نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کی شکل میں منی لانڈر کیا ہے۔ یہ صورتِ حال انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت انکوائری کارروائی کی متقاضی ہے۔آئی بی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی نے FIA کے خط ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہم مکمل تعاون کریں گے FIA کو جو بھی ریکارڈ اور چیزیں مانگی ہیں ہم دیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم مطمعین ہیں ہمارا باقاعدگی سے آڈٹ ہوتا ہے لیکن ہم حیران ہیں کہ اس کے پیچھے کون ہے اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2020 سے آج تک کی مدت کے لیے IBA اور اس سے وابستہ اداروں اور ٹرسٹ سے متعلق تصدیق شدہ ریکارڈ فراہم کرنے کی ضرورت ہے خط میںمالی سال 2020-2024 کے لیے فرینڈز آف IBA ٹرسٹ (FIBAT) سمیت IBA اور اس سے وابستہ ٹرسٹ کے سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، گرانٹس اور انڈوومنٹس کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے جب کہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن (سندھ ایچ ای سی) تمام قومی اور بین الاقوامی نجی عطیہ دہندگان اور تنظیمیں ان کی گرانٹس اور عطیات (بجٹ بمقابلہ حقیقی) کے تفصیلی استعمال کے بیانات، بشمول معاون واؤچر، منظوری، اور بینک کی تقسیم کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں خط میں IBA اور تمام ملحقہ ٹرسٹوں کے مکمل بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس، ٹرسٹ ڈیڈز، رجسٹریشن دستاویزات، گورننس کا ڈھانچہ، اور آڈٹ شدہ اکاؤنٹس، عطیہ دہندگان کے حساب سے موصول ہونے والے فنڈز اور ان کا استعمال سے متعلق چیزیں بھی مانگی گئی ہیں۔ خط میں تمام ٹرسٹیز اور دستخط کنندگان کے نام اور CNICs، مالی سال 2020-2024 کی اندرونی آڈٹ رپورٹس اور انتظامی خطوط۔IBA اور اس سے منسلک ٹرسٹ کے لیے بیرونی آڈیٹرز کی رپورٹس، جنوری 2020 سے دیے گئے تمام پروکیورمنٹ/ڈیولپمنٹ/آئی ٹی انفراسٹرکچر کنٹریکٹس کی فہرست، بشمول ٹھیکیداروں/وینڈرز کے نام، معاہدوں کی گنجائش اور قیمت اور ایوارڈ اور تکمیل کی تاریخیں، مکمل پروکیورمنٹ فائلیں بشمول ٹینڈر نوٹس، موصول ہونے والی بولیاں، تشخیصی رپورٹس، پروکیورمنٹ کمیٹی منٹس، اور ایوارڈ لیٹر، وینڈر بینک کی تفصیلات، ادائیگی کے واؤچرز، اور ڈیلیوری کی تصدیق کے ساتھ بالا معاہدوں کے لیے ادائیگی کے ریکارڈ، IBA کے ایگزیکٹوز کے تمام غیر ملکی دوروں کی تفصیلات جو IBA فنڈز اور/یا اس کے ٹرسٹ وغیرہ کے ذریعے ادا کیے گئے ہوں کی بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں، خط میں آئی بی اے کا ضابطہ اخلاق، مفادات کے تصادم کی پالیسی، اور اثاثہ جات کے اعلانات (IBA کے انتظام کے) سے متعلق SOP، کی پروکیورمنٹ، فنانس، اور HR SOPs/ دستورالعمل بھی مانگا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مطلوبہ ریکارڈ ڈائریکٹر (فنانس) 22 ستمبر 2025 کو صبح 10 بجے ایف آئی اے کے انکوائری آفیسر/ اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے سامنے ذاتی طور پر پیش کرے۔
https://e.jang.com.pk/detail/961250
جامعہ اردو کے ریٹائرڈ ملازمین کی ایچ ای سی کی تحقیقاتی کمیٹی سے ملاقات
22 ستمبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی اردو یونیورسٹی کی آرگنائزنگ کمیٹی برائے ریٹائرڈ اساتذہ وعمال کے ایک وفد نے کنوینر ڈاکٹر توصیف احمد خان کی سربراہی میں ہائرایجوکیشن کمیشن کی تحقیقاتی کمیٹی سے یونیورسٹی کے عطاء الررحمان کمیٹی روم میں ملاقات کی ۔ ریٹائرڈ اساتذہ وعمال کے وفد میں پروفیسر ڈاکٹر عارف زبیر، پروفیسر علی بخش بہن ،پروفیسر سید اصغر علی، پرفیسر اسماعیل موسیٰ ،پرفیسر رشید احمد کلوڑ،پروفیسر لیاقت علی تمیمی، پروفیسر مسعود احمد خان شامل تھے جبکہ ہاہر ایجوکیشن کمیشن کی کمیٹی میں کنوینرانجینئر محمد رضا چوہان،ممبران آفتاب رشید، نظیرحسین، محمد بن سیف شامل تھے۔ریٹائرڈ ملازمین کی کمیٹی کے وفد نے جامعہ کے ریٹائرڈ ملازمین کے مسائل اور دیگر انتظامی بے ضابطگیوں کے بارے میں تحقیقاتی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن چار ماہ سے واجب الادہ ہے جبکہ کمیوٹیشن کے واجبات 2017 سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو ادا نہیں کئے گئے ۔ افسوس کی بات یہ ہےکہ پنشن اور واجبات کی ادائیگی کے انتظار میں اب تک دس اساتذہ اور چار غیر تدریسی ملازمین انتقال کرچکے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے پنشن فنڈ میں بغیر منافع ظاہر کئے 67 کروڑ سے زائد رقوم موجود ہےنیز وائس چانسلر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے وفاقی محتسب کے ریٹائرڈٖ ملازمین کیادائیگی کے حکم کی تعمیل سے بھی انکار کردیا۔ دیگر ایشوز میں وائس چانسلر کا اپنی تنخواہ میں سینٹ کی منظوری کے بغیر 19 ماہ سے تنخواہ کی وصولی، ٹریثرار کی نا اہلیکی وجہ سے اسٹیٹ بینک کی ایک کروڑ چھیاسی لاکھ کی پنشن فنڈ سے براہ راست کٹوتی، چونکہ ٹریثرار نے Exemption Form برانچ میں جمع کرانا بھول گئے تھے جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ ٹریثرار احسان دانش پر عائد ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ایک کیس کی پیروی نہ کرنے پر بینک سے براہ راست ساڑھے چھبیس لاکھ کی کٹوتی ہوگئی۔























