
تحریر: سہیل دانش
وہ اپنی بات بڑی عاجزی سادگی اور تحمل سے کررہے ہیں۔ لیکن وہ جس قوت کو چیلنج کررہے ہیں وہ سیاست کے سارے گُر اور چالاکیاں جانتی ہے، وہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اُن کی پھوپھی کی شہادت کے بعد اُن کے پھوپھا کس طرح بھٹو کی وراثت کو لے اُڑے۔ سندھی نوجوان اُن کی باتوں کی پھلجڑیوں کو دیکھ کر متوجہ بھی ہورہا ہے اور حیران بھی، لیکن وہ سمجھتا ہے کہ مدِ مقابل ہائپر سانک میزائلوں سے لیس ہے اور پٹاخوں کی یہ دھمک اُس کا کچھ نہیں بگاڑسکتی۔ ذوالفقار جونیئر ابھی اُس دوراہے پر کھڑے ہیں جس کے متعلق یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ اُنہیں کس لانچر پر رکھ کر داغا جائے کہ وہ ایک گائیڈڈ میزائل کی طرح اپنا نشانہ چوک جائیں ابھی تو فاطمہ بھٹو اپنے بھائی کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں لیکن کیا فاطمہ بھٹو بھائی کو چیلنجوں اور خطرات سے پُر اِس سفر میں پیشقدمی کے لئے اُن کا ہاتھ تھامے رہیں گی یا وہ اُن کے خاموشی اور چابکدستی سے آگے بڑھنے کے فیصلے کو ویٹو کردیں گی۔ کیونکہ اپنے اسکول گوئنگ کے زمانے میں اُنہوں نے اپنے گھر 70 کلگٹن کے عقب میں کراچی کے مڈایسٹ ہسپتال میں
گولیوں سے چھلنی اپنے بابا کو آخری سانسیں لیتے دیکھا تھا یا پھر وہ اپنے بھائی کو اپنے دادا کا حقیقی وارث ثابت کرنے کے لئے اپنے کزن سے پنجہ آزمائی کو ترجیح دیں گی۔ جو اِس وقت سندھ کی سیاست میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ بھٹو کو اِس دنیا سے رخصت ہوئے 46 برس ہوچکے ہیں۔ اِس عرصے میں سندھی بولنے والوں کی دوسری نسل بھی جوان ہوچکی ہے۔ لیکن یہ سب نوجوان جو ووٹ کا حق رکھنے کے ساتھ اِس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ بھٹو نے کس طرح موت کی چھوٹی سی کوٹھڑی میں جبر و مجبوری کے ساتھ پھانسی کے پھندے تک کا سفر طے کیا تھا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ذوالفقار جونیئر محض وراثت کی بات کرتے ہیں یا پھر وہ اپنے دادا کے روٹی کپڑا مکان کے نعرے کی طرح سندھ کے اُن مفلوک الحال لوگوں کی آواز بلند کرتے ہیں غربت جنہیں کھارہی ہے جہالت جنہیں گھن کی طرح چاٹ رہی ہے اور جن کے درد کا درماں بظاہر کسی کے پاس نہیں، جہاں ہر ادارے میں کرپشن کے زہر نے پورے معاشرے کو برباد کردیا ہے، انہوں نے اِس بلند قامت 100 اسٹیپ کی سیڑھی کے پہلے اسٹیپ پر قدم رکھ دیا ہے۔ اپنے دیوقامت حریف کے خلاف وہ لانچ تو ہوگئے ہیں لیکن لانچز کی کرامتیں ابھی ظاہر نہیں ہوئیں۔ جس نے قومی اسمبلی کے ایک ووٹ والے عمران خان کو پہلے نواز شریف اور زرداری جیسے طاقتور حریفوں کے سامنے لاکھڑا کیا پھر وزارتِ عظمیٰ کی مسند پر بٹھادیا۔ مقبولیت کا حیرت انگیز عروج دیا اور آج اڈیالہ جیل کے ایک کمرے تک محدود کردیا۔
=========================
کراچی میں ایم نائن میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا ہے، لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ تینوں خواجہ سراؤں سے کوئی شناختی دستاویزات نہیں ملیں، تینوں مقتولین کو سر، سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہیں۔
پولیس کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ تینوں افراد سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے، ممکنہ طور پر ملزم نے تینوں افراد پر فائرنگ کی اور قتل کر کے فرار ہوگیا، تمام پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں، جائے وقوعہ ویران جگہ ہے۔
قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لے کر آئی جی پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہر صورت گرفتار کر کے مجھے رپورٹ پیش کی جائے، خواجہ سرا معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی بھی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گی۔























