ایشیاء کی دو نمبر ٹیم افغانستان
ایشیاء کپ سے باہر
(تحریر: نوید انجم فاروقی)
بھارتی میڈیا نے ایک واویلہ مچا رکھا تھا کہ ایشیاء کی دوسرے نمبر کی ٹیم افغانستا ن ہے۔ اِس طرح وہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بے چارے بھارتیوں کے سپنے اُس وقت ٹوٹے جب پاکستان نے نہ صرف تین ملکی ٹورنامنٹ افغانستان کو دو دفعہ ہرایا اور فائنل بھی جیتا بلکہ ایشیاء کپ کے سپر فور میں بھی پہنچ گئے جبکہ خود ساختہ نمبر دو افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے ہار کر سپر فور سے بھی باہر ہو گیا۔اِس طرح بھارتی میڈیا کو منہ کی کھانی پڑی۔ افغانستان کو ایک اور ہزیمت سے اُس وقت گزرنا پڑا جب سری لنکا کے خلاف میچ میں افغان کپتان نے بولڈ ہونے کے بعد بھی ریویو لینے کی فرمائش کی تو ایمپائر نے اُس کی توجہ وکٹوں کی جانب دلائی جو زمین بوس ہو چکی تھیں۔اِس طرح راشد کو مایوس ہو کر میدان سے باہر جانا پڑا۔ اِسی میچ میں کپتان راشد خان کی ایک شکست یہ بھی ہوئی کہ اُسے کوئی وکٹ نہیں ملی اور سری لنکا نے سکون کے ساتھ کھیلتے ہوئے مطلوبہ ہدف چار کھلاڑیوں کے آؤٹ ہونے پر پورا کر لیا اور نہ صرف خود سپر فور میں پہنچے بلکہ بنگلہ دیش کو بھی ساتھ لے گئے اور افغان ٹیم منہ دیکھتی رہ گئی۔
اَب آج 20 ستمبر سے ایشیاء کپ سپر فور کا آغاز ہو رہا ہے جس میں ایشیاء کی ٹاپ فور ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلیں گی اور دو بہترین ٹیمیں فائنل کیلئے کوالیفائی کریں گی۔ آج بنگلہ دیش اور سری لنکا کے درمیان میچ کھیلا جائے گا جبکہ کل بروز اتوار پاکستان اور بھارت ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہوں گے۔ گروپ میچ میں بھارت نے پاکستان کو آسانی سے شکست دی تھی۔ اُس میچ میں پاکستانی بیٹنگ بالکل ناکام رہی، آخر میں شاہین آفریدی نے چند ہٹیں لگا کر سکور کو اِس قابل کیا کہ کچھ فائٹ ہو سکے مگر باؤلنگ بھی کچھ قابل ذکر نہیں رہی صرف صائم ایوب نے ہی گرنے والی تینوں وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایشیا کپ کے تینوں میچوں میں کوئی سکور نہیں بنا سکے ہاں البتہ اُنھوں نے چھ وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل کر رکھا ہے۔ اُمید کی جاتی ہے سپر فور مقابلوں میں صائم بھی بیٹنگ فارم میں واپس آئیں گے اور دیگر بلے باز بھی جم کر مقابلہ کریں گے۔ بظاہر سپر فور میں بھارت کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے لیکن سری لنکا سے کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے اور ہوسکتا ہے سری لنکا بھارت کو شکست سے بھی دوچار کر دے کیونکہ اُن کے پاس اچھے باؤلرز کے ساتھ ساتھ اچھے بلے باز بھی موجود ہیں جو ہر قسم کی صورتحال میں بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ سپر فور ٹیموں میں سے کون سی دو ٹیمیں فائنل کیلئے کوالیفائی کرتی ہیں۔ آخر میں عمان کی ٹیم کی بھی تعریف کرنا ہو گی جنہوں نے آخری گروپ میچ میں بھارتی باؤلنگ کے سامنے ڈٹ کر بیٹنگ کی کلیم اور ندیم مرزا نے نصف سنچریاں بنائیں اور اچھا میچ دیکھنے کو ملا۔اُن کی کارکردگی سے صاف نظر آتا ہے کہ وہ مستقبل میں اچھی ٹیم بن کر ایشیاء کا نام روشن کریں گے۔
Load/Hide Comments























