نیلی — وہ لڑکی جس سے دلشاد محبت کرتا ہے، جو اپنے مکان مالِک کی بیٹی ہے۔
وجدان — ایک امیر آدمی، نیلی کا باس، جس سے وہ شادی کر لیتی ہے۔ اس کے گھر میں ایک بوڑھی ماں ہے اور ایک بچّہ بھی۔
پلاٹ / کہانی کا خلاصہ
کہانی کا آغاز دلشاد کی جدوجہد سے ہوتا ہے — وہ فیصل آباد سے نکل کر شہر میں بہتر مواقع تلاش کرنے آتا ہے تاکہ گلوکاری کا شوق پورا کر سکے۔
دلشاد اور نیلی کے بیچ محبت ہوتی ہے، مگر حالات بدل جاتے ہیں۔ نیلی کو وجدان سے شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، یا وہ خود یہ فیصلہ کرتی ہے (اب تک پوری وضاحت نہیں ہوئی کہ کس طرح ہوا)۔ وجدان کے گھر میں ذمہ داریاں ہیں — ماں کی دیکھ بھال اور بچہ — جنہوں نے اسے ایک بھاری فرض کے تحت بندھا ہوا آدمی بنایا ہے۔
=============

=====================
یہ محبت، قربانی اور چپکے چھپے رازوں کا ڈرامہ ہے، جہاں وقت کے ساتھ ساتھ سچائی سامنے آتی ہے اور دلشاد کی زندگی میں دراڑیں پڑنا شروع ہوتی ہیں۔
موضوعات اور پیغام
ڈرامہ ماسُوم چند اہم معاشرتی اور جذباتی موضوعات پر روشنی ڈالتا ہے:
محبت بمقابلہ ذمہ داری
محبت کی کیفیات، اور یہ سوال کہ کیا ایک شخص اپنی محبت کے حق میں تمام ذمہ داریاں ضائع کر دے سکتا ہے یا نہی۔
خوف اور اثر و رسوخ
اثر و رسوخ کی طاقت — امیری، قدرت، سماجی حیثیت — کا کردار کہانی میں اہم ہے، خصوصاً یہ فیصلہ کہ نیلی نے وجدان سے شادی کیوں کی۔
سچائی اور راز
راز جو پردۂِ خاک کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں، جب سامنے آتے ہیں تو ایک شخص کی دنیا بدل سکتی ہے۔
خود شناسی اور قربانی
دلشاد یا نیلی دونوں کو ایسے لمحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں انہیں اپنا مقصد، شناخت اور اپنی پسند یا نا پسند پر غور کرنا پڑتا ہے۔
طاقتیں اور کمزوریاں
طاقتیں
اداکاری: عمران اشرف، سونیا حسین، مکال ذوالفقار جیسے اداکاروں کی موجودگی ایک توقع پیدا کرتی ہے کہ کردار ٹھوس ہوں گے اور جذبات کو مناسب انداز میں پیش کیا جائے گا۔
==========

==============
پروڈکشن ویلیو: MD Productions اور Momina Duraid کا نام عموماً اچھی کوالٹی کی کہانی اور ہندسہ بندی کے لیے جانا جاتا ہے۔
کہانی کے موڑ: محبت، بیوفائی، خود قربانی، اور ایسے انتخاب جو شخصی اور اخلاقی دونوں اعتبار سے مشکل ہوں — یہ تمام موضوعات ناظرین کو جذباتی طور پر جوڑ سکتے ہیں۔
ممکنہ کمزوریاں
متوقع مماثلت: کچھ نقادوں نے کہا ہے کہ ماسُوم کی کہانی میں بالکل وہی موڑ موجود ہیں جو پرانی بالی وڈ فلم وہ سات دن میں تھے، جس میں ایک لڑکی اپنی محبت کو چھوڑ کر امیر آدمی سے شادی کر لیتی ہے۔
==============

==============================
تکراری سوچ: ایسے موضوعات جو پہلے بھی پاکستانی ڈراما میں کئی مرتبہ دیکھے جا چکے ہیں — مثلًا غربت، امیری، سماجی دباؤ، اور محبت کے تضادات۔
کرداروں کی عمق کا امکان: جب کہ ابتدائی تیز رفتار اور جذباتی واقعات اچھا آغاز ہیں، یہ ضروری ہے کہ ڈرامے کے درمیانی اور آخری حصے میں کرداروں کی پیچیدگیاں واضح ہوں اور موڑ اتنے مؤثر ہوں کہ کہانی یکساں نہ بنی رہے۔
تنقیدی جائزہ
ڈرامے کا ٹیزر اور پرومو کافی اثر انداز رہے ہیں۔
ناظرین نے خاص طور پر عمران اشرف کے کردار کی بدلی ہوئی امیج کو سراہا ہے — جہاں وہ گلوکار ہیں، دیہی مگر باصلاحیت، روایتی سُوٹ یا گھڑیا نما کردار کی بجائے ایک زیادہ خام، قدرتی اور دل تک جانے والا کردار نبھاتے نظر آئیں گے۔
بہت سے لوگ یہ تنقید بھی کر رہے ہیں کہ کہانی بہت جلد ایسے موڑ اختیار کر رہی ہے جو کہ پہلے سے کئی ڈراموں یا فلموں میں دیکھی جا چکی ہیں، یعنی کہ نیاپن کم ہے۔
=================

============
کیا یہ ڈرامہ دیکھنا چاہیے؟
اگر آپ ایسے ڈرامے پسند کرتے ہیں جن میں:
محبت اور اخلاقی تضادات کے بیچ خوبصورت توازن ہو،
کرداروں کے اندرونی جذبات اور ان کے انتخاب کی پیچیدگیاں ہوں،
گھر اور معاشرتی دباؤ کی کہانی ہو،
تو ماسُوم یقیناً آپ کے لیے اچھی پسند ہو سکتی ہے۔ یہ ڈرامہ بظاہر جذباتی اور سنسنی خیز موڑ اختیار کرے گا، جو ناظرین کو ابتدائی قسطوں سے باندھے رکھے گا۔























