29 گھنٹے کی دنیا کی طویل ترین پرواز اڑان بھرنے کیلئے تیار

29 گھنٹے کی دنیا کی طویل ترین پرواز اڑان بھرنے کیلئے تیار

اگر آپ کسی طیارے کی 29 گھنٹے طویل پرواز پر سفر کرنا چاہتے ہیں تو ایک چینی فضائی کمپنی بہت جلد اس کو حقیقت بنانے والی ہے۔

چائنا ایسٹرن ائیر لائنز نے شنگھائی اور بیونس آئرس کے درمیان نئے روٹ کی ٹکٹوں کو فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔کمپنی کے مطابق یہ دنیا کی طویل ترین ڈائریکٹ پرواز ہوگی۔

کمپنی نے بتایا کہ یہ پرواز شنگھائی کے Pudong انٹرنیشنل ائیرپورٹ (پی وی جی) سے روانہ ہوکر بیونس آئرس کے Ministro Pistarini انٹرنیشنل ائیرپورٹ (ای زی ای) تک 25.5 گھنٹوں میں پہنچے گی۔

مگر جب یہ واپس شنگھائی آئے گی تو پرواز کا دورانیہ 29 گھنٹے طویل ہوگا۔تاہم یہ دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پرواز نہیں ہوگی بلکہ یہ راستے میں نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں 2 گھنٹے قیام کرے گی۔تو اسے طویل ترین ڈائریکٹ پرواز تو کہا جاسکتا ہے مگر نان اسٹاپ پرواز نہیں۔

دنیا کی طویل ترین نان اسٹاپ پرواز کا اعزاز سنگاپور ائیرلائنز کے پاس ہے۔اس فضائی کمپنی کے زیرتحت سنگاپور اور نیویارک کے درمیان 9537 میل طویل پرواز لگ بھگ 19 گھنٹے میں کسی جگہ رکے بغیر اپنی منزل تک پہنچتی ہے۔

چائنا ایسٹرن ائیرلائنز نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا کمرشل روٹ ہے جو antipodal شہروں کو جوڑے گا۔یعنی 2 ایسے شہر جو زمین کے متضاد کونوں پر واقع ہیں۔

اس پرواز کے لیے کمپنی کی جانب سے غیرمعمولی راستہ اختیار کیا جائے گا اور طیارہ انٹار کٹیکا کے قریب سے گزرے گا۔کمپنی کے مطابق اس سے ہمیں مجموعی سفر کے حوالے سے کم از کم 4 گھنٹے بچانے میں مدد ملے گی۔

اس روٹ پر بوئنگ 777-300ER کو استعمال کیا جائے گا اور ہر ہفتے 2 پروازیں روانہ کی جائیں گی۔4 دسمبر کو چائنا ایسٹرن ائیرلائنز کی جانب سے اس روٹ پر اولین پرواز روانہ کی جائے گی۔