
نعیم اختر
دوحہ کا ایمرجنسی اجلاس جس میں قریباً پچاس سے زائد عرب و مسلم ممالک کے سربراہ اور ان کے نمائندے شریک ہوئے ایک سچائی کی عکاس ، دکھ اور غم میں ہم اکٹھے مگر عمل میں منتشر، دوحہ غصّے اور ملٹی لیٹرل مذمت کی علامتی تصویر بنتا رہا مگر عملی فیصلوں کی ہڈی کمزور رہی دوحہ اجلاس نے دنیا کو دکھا دیا کہ الفاظ تو مل جاتے ہیں لیکن جب میدانِ عمل کا وقت آتا ہے تو مفادات، دباؤ اور خارجہ پالیسی کے حسابات امت کو بانٹ دیتی ہے۔
یہ طعنہ ہم پر بہت بھاری پڑے گا اگر ہم اسی رویّے کو دہرا کر چلے جائیں یہی وقت ہے کہ اسلامی رہنماؤں کی خاموشی کو طاقت میں تبدیل کیا جائے رونا، غم اور مذمت کافی نہیں جو قومیں الفاظ کے ساتھ قیمت ادا نہیں کرتیں وہ کبھی انصاف حاصل نہیں کرتیں۔ فلسطین کے مظلوم عوام ہم سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں امید یہ نہیں کہ ہم خوبصورت تقاریر کریں گے بلکہ امید یہ ہے کہ ہم ایسا لائحہ عمل اپنائیں گے کہ مظلوموں کو فوراً راحت پہنچے اور مظالم روک جائیں۔
کیا اسلامی ممالک صرف “جائزہ” لینے آئے دوحہ اجلاس میں آئے ،عملی اقدامات کیا ہوئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے
دوحہ کے بیانات میں کئی ملکوں نے “تعلقات کا جائزہ” لینے کی بات کی مگر جائزہ لینے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہمیں ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے
تجارتی اور سفارتی تعلقات کا فوری خاتمہ،وہ اسلامی ممالک جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی یا تجارتی روابط رکھتے ہیں ان کو آج ہی اپنے تعلقات معطل کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ دفتری سطح پر مذاکرات روک دیے جائیں، ایمبیسی دفاتر بند کیے جائیں اور تجارتِ اشیاء اور خدمات معطل رکھی جائیں یہ معاشی دباؤ کا پہلا اور براہِ راست ذریعہ ہے۔
1967 کی سرحدوں کے مطابق تسلیمِ ریاستِ فلسطین
کو وہی حدود دی جائیں جو 1967ء سے قبل تھیں یہ ایک قانونِ بین الاقوامی اور اخلاقی موقف ہے جس پر متحدہ اسلامي فورم ایک آواز بن کر دباؤ ڈالے۔
غزہ تک محفوظ انسانی روٹس اور ہنگامی کوریڈورز
مصر و اردن کے زمینی راستوں اور بین الاقوامی سمندری راستوں کو انسانی امداد کے لیے فوری طور پر یقینی بنایا جائے وسائل، طبی سامان، خوراک اور پانی تک رسائی پر کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے
بین الاقوامی قانونی راستہ اور انصاف،اسرائیل کی ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے عالمی سطح پر دباؤ بڑھایا جائے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی عدالتی فورمز اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ تک شکایات منظم انداز میں پیش کی جائیں۔ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ اسلامی فنڈ ناگزیر ،اسلامی ممالک مل کر ایک شفاف اور خودمختار بحالی فنڈ قائم کریں جس کا کنٹرول ایک مشترکہ بورڈ کے ہاتھ میں ہو تاکہ تعمیر نو میں سیاسی مداخلت نا آئے اور وسائل سیدھے متاثرین تک پہنچیں۔
اسرائیل سے مکمل سماجی، اقتصادی اور سفارتی بائیکاٹ کیا جائے،مسلم حکمرانوں کی نیند طویل ہو چکی ہے اسرائیل کے ظلم و بربریت پر مغرب جاگ چکا ہے وہاں جو اسرائیل کے خلاف عوامی اور حکومتی سطح پر آواز بلند ہو رہی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ اب ہمیں بھی جاگ جانا چاہیے
۔ انسانیت کے نام پر اٹھنے والا احتجاج محض جذباتی میزائل نہیں یہ ایک اخلاقی ضرورت ہے ۔ بین الاقوامی دباؤ، معاشی پابندیاں اور سفارتی تنہائی یہ وہ آلے ہیں جن سے بڑی طاقتیں پالیسی بدلتی آئی ہیں اگر امت متحد ہو کر یہ آلے بروئے کار لائے تو نتیجہ فلسطینی عوام کے حق میں آ سکتا ہے۔اس سلسلے میں دنیائےاسلام کی پہلی ایٹمی طاقت
پاکستان اپنا منفرد کردار ادا کر سکتا ہے پاکستان ایک نظریاتی اور جغرافیائی سطح پر اہم ملک ہے وہ مالی تعاون، ڈپلومیسی اور انسانی امداد کے ذریعے قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی بات عالمی مسلم عوامی دلوں میں گونجتی ہےاس لیے عملی قیادت کی توقع بھی اسی سے رکھی جاتی ہے۔
عملی راستہ—تفصیلی لائحہ عمل مرتب کرکے
مشاورتی کمیٹی قائم ، OIC، عرب لیگ اور پاکستان کی مشترکہ ورکنگ ٹیم بنا کرفوری طور پر ریڈ لائنز طے کی جائیں تجارتی روابط معطل؛ فضائی حدود پر نظرِ ثانی؛ اسرائیلی سفارتی مشنز پر پابندیاں،
بین الاقوامی عدالتی کارروائی کے لیے دستاویزات تیار۔ غزہ میں انسانی کوریڈورز قائم، امدادی کھیپیں محفوظ راستوں سے بھیجنےکے انتظامات ،تعمیرِ نو فنڈ کا اعلان، مستقل اقتصادی پابندیاں، ہدفی سفارتی اقدامات اور بین الاقوامی سطح پر مستقل مہم ،سیاسی دباؤ اور بلیک لسٹنگ جہاں ضروری ہو کرنے کی ضرورت ہے۔
کئی مسلم حکمران اور تجارتی حلقے یہ کہیں گے کہ “عالمی حقیقتیں” یا “سیکورٹی مفادات” ہمیں پابند کرتے ہیں۔ میں کہوں گا وہی عالمی حقیقتیں تب تک آپ کے مفاد میں نہیں ہوں گی جب تک آپ انصاف کی بنیاد پر خود کو کھڑا نہیں کرتے۔ اخلاقی اصول کبھی پیچھے نہیں ہٹتے دیر سے اٹھنے والا انسان بھی کھڑا ہو سکتا ہے مگر اول قدم اٹھانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں
عوامی مہم اور میڈیا بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے
حکومتیں جب ڈگ مگا جائیں تو عوامی دباؤ ہی تبدیل کن ثابت ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر مؤثر سوشل میڈیا مہمات، بائیں و دائیں کے روشن خیال حلقوں سے اتحاد، طلبہ اور پروفیشنلز کی ہڑتالیں اور سڑکوں پر منظم مظاہرے یہ سب حکمرانوں کو عمل کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ الفاظ کے بجائے عملی قربانی دے،ابتدا میں ہنگامی امدادی سامان کو منظم کرے غزہ کے لیے تعمیر نو فنڈ میں شراکت اور عالمی سفارتی محاذ پر فلسطین کے موقف کی موثر انداز میں صدا بلند کرے یہ اقدام دنیا میں پاکستان کی نظریاتی حیثیت کو بھی مزید تقویت دے گا اور لاکھوں مظلوموں کی آنکھوں میں امید جگائے گا۔مسلم حکمرانوں کو
اب یا کبھی نہیں کہ فلسفے پر عمل درآمد کرنا ہوگا
دوحہ اجلاس نے جو دکھایا وہ یہ ہے کہ امت میں جذبات موجود ہیں مگر عملی عزم کمزور ہے اگر ہم آج تاریخی، شاندار اور متحدہ فیصلے نا کریں تو کل کے دن ہمیں شرمندگی بلکہ قصور کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ ہمیں اپنے سیاسی مفادات، تجارتی دکانوں اور بیرونی دباؤ کو ایک جانب رکھ کر صرف ایک چیز دیکھنی ہے انسانیت اگر امت نے آج فیصلہ کن قدم نا اٹھائے تو الفاظ ہماری تاریخ میں سرخیاں بنتے رہیں گے اور ہمارے بچوں کو وہی سوال درپیش ہوگا ہم کہاں تھے؟ ہم کیا کر رہے تھے؟ جواب دینے کے لیے ہمارے پاس الفاظ نہیں ہونگے بہت خاموشی اور مذمتی بیانات ہو چکے اب فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے























