
اعتصام الحق
چین کو جو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک ہے، شہری اور صنعتی فضلے کے انتظام کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا تھا ۔ یہ مشکلات دنیا کے ہر اس ملک اور شہر کو ہیں جو زیادہ آبادی رکھتا ہے لیکن ان چیلنجز کے جواب میں، چینی حکومت نے زیرو ویسٹ شہروں کے تصور کو اپنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں۔ زیرو ویسٹ کا بنیادی مقصد فضلے کے انتظام کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک ایسی معیشت کی تشکیل ہے جہاں مواد کو ممکنہ حد تک دوبارہ استعمال اور ری سائیکل کر کے فضلے کے پیدا ہونے کی شرح کو کم سے کم کیا جا تا ہے ۔
چین میں زیرو ویسٹ مہم کا باقاعدہ آغاز 2000 کی دہائی میں اس وقت ہوا جب فضلے کے مؤثر انتظام کے لیے قومی سطح کے قوانین نافذ کیے گئے۔ اس سلسلے میں ایک اہم قدم 2017 میں “قومی فضلے کی علیحدگی کا نظام” متعارف کرانا تھا جسے عام زبان میں ویسٹ سارٹنگ کہا جاتا ہے ۔ 2019 میں، اس اقدام کو مزید وسعت دیتے ہوئے زیرو ویسٹ شہروں کے قیام کے لیے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت ملک بھر کے 11 اہم شہروں کو پائلٹ پرا جیکٹس کے طور پر منتخب کیا گیا تاکہ بہترین طریقوں کو آزمایا اور فروغ دیا جا سکے۔
چین کے اہم اقدامات میں سب سے نمایاں فضلے کی درجہ بندی کا نظام ہے، جسے 46 اہم شہروں میں لازمی قرار دیا گیا ہے۔ 2023 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، شنگھائی نے فضلے کی درجہ بندی کی 90 فیصد سے زیادہ شرح حاصل کی ہے، جبکہ بیجنگ نے 85 فیصد گھریلو فضلے کی درجہ بندی کا ہدف حاصل کیا ہے۔ شینزین جیسے شہر نے تو اس میدان میں اور بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضلے کے انتظام کی شرح 95 فیصد تک پہنچا دی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کارفرما ہے۔ 2022 تک، چین میں 1,000 سے زیادہ جدید ری سائیکلنگ پلانٹس فعال طور پر کام کر رہے ہیں اور ملک کا ہدف 2025 تک شہری ٹھوس فضلے کی ری سائیکلنگ کی شرح کو 35 فیصد تک پہنچانا ہے۔
پائلٹ شہروں کی کارکردگی نے اس حکمت عملی کی کامیابی کو ثابت کیا ہے۔ شینزین نے 85 فیصد کی ری سائیکلنگ کی شرح حاصل کی ہے،جبکہ چنگ ڈاؤ نے گھریلو فضلے میں 30% کمی کا قابل رشک ہدف حاصل کیا ہے۔ 2023 کے فضلے کے انتظام کے اہم اعداد و شمار کے مطابق، شہری گھریلو فضلے کا سالانہ حجم 240 ملین ٹن ہے، فضلے کی درجہ بندی کی اوسط شرح 70 فیصد ہے، جبکہ ری سائیکلنگ کی شرح 35 فیصد اور لینڈ فل فضلے کی مقدار میں سالانہ 5-7 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے اقتصادی اثرات بھی قابل ذکر ہیں، جہاں ری سائیکلنگ صنعت کا حجم بڑھتا جا رہا ہے ۔ان پرا جیکٹس میں 3 ملین سے زیادہ افراد ملازم ہیں، اور سالانہ سرمایہ کاری 100 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔
اگرچہ چین نے اس سلسلے میں قابل رشک ترقی کی ہے، لیکن متعدد چیلنجز اور رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ ان میں سب سے اہم سماجی تبدیلی ہے، جہاں چین نے بڑے شہروں میں عوام کو ان اقدمات میں شامل کر کے خاطر خواہ نتائج حاصل کیے ہیں ۔ دیہی علاقوں میں اس نظام کے نفاذ کے حوالے سے ا بھی مشکلات موجود ہیں جہاں فضلے کے انتظام کے نظام تک محدود رسائی ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ جدید ری سائیکلنگ سہولیات قائم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، اور صنعتی پیداوار سے نکلنے والے فضلے کا مؤثر انتظام بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
مستقبل کے ہدف اور حکمت عملی کے حوالے سے چین کے پاس واضح منصوبہ موجود ہے۔ 2025 تک کے اہداف میں تمام بڑے شہروں میں فضلے کی درجہ بندی کا نظام قائم کرنا، شہری ٹھوس فضلے کی ری سائیکلنگ شرح 35 فیصد تک پہنچانا، اور لینڈ فل فضلے کی مقدار میں 20 فیصد کمی لانا شامل ہے۔ 2035 کے طویل المدتی اہداف میں پائیدار فضلے کے انتظام کا مکمل نظام قائم کرنا، سرکلر اکانومی کو مضبوط بنانا، اور زیرو ویسٹ اصولوں کو پورے معاشرے میں شامل کرنا شامل ہے۔
چین میں زیرو ویسٹ شہروں کا سفر ایک حوصلہ افزا اور قابل تقلید ماڈل پیش کرتا ہے، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے۔ اگرچہ چیلنجز ابھی موجود ہیں ، لیکن چین کی حکومت کامضبوط عزم، جامع پالیسیاں، اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری نے زیرو ویسٹ اقدامات کو قابل ذکر کامیابیوں تک پہنچایا ہے۔ دیگر ممالک چین کے ان تجربات سے سیکھ سکتے ہیں اور اپنے مخصوص حالات کے مطابق انہیں اپنا سکتے ہیں۔ چین کی زیرو ویسٹ مہم نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لیے بلکہ ایک پائیدار معاشی ترقی کے ماڈل کے قیام کے لیے بھی اہم ہے، جو دنیا بھر کے شہروں کے لیے ایک روشن مثال پیش کرتی ہے۔























