
تحریر: سیدال خان ناصر
(ڈپٹی چیئرمین سینیٹ)

پاکستان کی تاریخ قربانیوں، جانثاری اور حب الوطنی کے ایسے واقعات سے روشن ہے جو رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گے۔ انہی عظیم کرداروں میں ایک نام ہے میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) کا، جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں اپنے خون سے جرات و بہادری کی ایک لازوال داستان رقم کی۔ آج ان کی برسی کے موقع پر ہم نہ صرف ان کی خدمات کو یاد کرتے ہیں بلکہ ان سے یہ سبق بھی لیتے ہیں کہ وطن کی حفاظت سب سے بڑی عبادت اور عظیم سعادت ہے۔
میجر عزیز بھٹی 1928ء میں ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ وطن عزیز ہجرت کر آئے۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد 1950ء میں پاک فوج میں شامل ہوئے اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا عسکری کیریئر نظم و ضبط، فرض شناسی اور بہادری سے عبارت رہا۔

ستمبر 1965ء میں جب دشمن نے پاکستان کی سرزمین پر ناپاک ارادوں کے ساتھ حملہ کیا، تو میجر عزیز بھٹی نے لاہور کے برکی سیکٹر میں اپنی کمپنی کے ساتھ مورچے سنبھالے۔ دشمن بار بار شدید گولہ باری اور ٹینکوں کے ساتھ حملہ آور ہوا مگر یہ جانباز سپاہی اور اس کے ساتھی دیوارِ چین بن کر ڈٹے رہے۔

چھ دن اور چھ راتوں تک انہوں نے اپنی پوزیشن نہیں بدلی۔ نہ تھکے، نہ ہارے۔ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ہر وقت محاذ پر موجود رہے۔ ساتھی سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے رہے۔ 12 ستمبر 1965ء کو ایک دشمن گولے نے آپ کو شہید کر دیا، لیکن آپ نے اپنے خون سے اس دھرتی کی آبیاری کی جس پر آج ہم آزادی کی سانس لے رہے ہیں۔
میجر عزیز بھٹی شہید کی بہادری اور قربانی کے اعتراف میں انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز “نشانِ حیدر” سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کی مٹی پر قربان ہونے والے شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
میجر عزیز بھٹی شہید ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ وطن کی حفاظت محض فوج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا فرض ہے۔ افواجِ پاکستان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی ہیں لیکن حقیقی کامیابی تب ہی حاصل ہوتی ہے جب پوری ملت دفاع وطن کے جذبے سے سرشار ہو۔
میجر عزیز بھٹی شہید کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ وہ قوم کے نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں کہ کس طرح ایمان، قربانی اور عزم کے ساتھ وطن کی مٹی کا قرض اتارا جاتا ہے۔
آج جب ہم میجر عزیز بھٹی شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں تو یہ عہد بھی کرتے ہیں کہ ان کی شہادت کو محض یادگار تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ اپنے کردار، اپنی سوچ اور اپنی عملی زندگی میں بھی اسی جذبۂ قربانی کو زندہ کریں گے۔ شہید کی یہ صدا ہمیشہ زندہ ہے کہ:
“اے وطن! تیرا قرض ہے جو جان دے کر بھی ادا نہیں ہو سکتا۔”























