پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے عمان کے خلاف ایشیا کپ 2025ء کے افتتاحی میچ کے بعد قومی ٹیم کی بیٹنگ پرفارمنس پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے بعد ایک اسپورٹس پلیٹ فارم پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیٹر کے لیے گیند کو سمجھنا اور کھیل کے احساس کو اپنانا سب سے زیادہ اہم ہے۔
شعیب اختر کے مطابق: “ایک بلے باز کے لیے اصل بات یہ ہے کہ گیند جب بیٹ سے ٹکراتی ہے تو وہ لمحہ کیسا ہے۔ مجھے آج بھی یہی لگتا ہے کہ گیند کس طرح آ رہی ہے، کس لینتھ پر ہے، وہاں کتنا باؤنس ہے اور میری تکنیک مجھے کیا بتا رہی ہے۔ یہ چیزیں فیصلہ کرتی ہیں کہ بلے باز کو کریز پر کس طرح کھڑا ہونا ہے اور کس لمحے حرکت کرنی ہے۔”
50 سالہ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ عام طور پر ایک بیٹر کو کریز پر سیٹ ہونے کے لیے چند گیندیں ہی کافی ہوتی ہیں، اس لیے غیر ضروری شاٹس یا جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے صائم ایوب کے صفر پر آؤٹ ہونے کی مثال دیتے ہوئے کہا: “بہت زیادہ حرکت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دو چار گیندوں میں بیٹر کو کھیل کا احساس ہو جاتا ہے۔ یہ ’نو لک‘ شاٹس کھیلنے کا وقت نہیں بلکہ گیند کو سمجھنے اور حالات کے مطابق کھیلنے کا وقت ہے۔”























