عدالتی نظام میں آئین ومیرٹ کی بالادستی کی جدوجہد

راولاکوٹ( )جموں وکشمیرپیپلزپارٹی کے صدرممبرقانون سازاسمبلی سردارحسن ابراہیم خان نے پارٹی عہدیداران وکارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مراعات کے خاتمے کیلئے جموں وکشمیرپیپلزپارٹی نے سردارخالدابراہیم خان کی قیادت میں عملاًجدوجہدکی پنشن بل ممبران اسمبلی کے خلاف شروع دن سے صدائے احتجاج کوبلندرکھااورعدالتی نظام میں آئین ومیرٹ کی بالادستی کی جدوجہدکے دوران سردارخالدابراہیم خان اس دنیاسے چلے گئے یہی جموں وکشمیرپیپلزپارٹی کاسیاسی فلسفہ ہے آج عوامی حقوق کے علمبرداربے شمارلیکن عمل کسی کانہیں۔عوام کے ساتھ حقوق کے نام پرکھلواڑکسی صورت قبول نہیں سچ یہ ہے کہ عوامی حقوق کے نام پراپنے مذموم ایجندہ کوپروان چڑھایاجارہاہے جسے ہم کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ریاست کایہ خطہ کسی سورت لاقانونیت انتشارکامتحمل نہیں ہوسکتاحکومت آزادکشمیرکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حقائق عوام کے سامنے لائے۔اورسب سے بڑھ کریہ کہ مراعات کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں سردارخالدابراہیم خان کے قافلے کے سپاہی اورغازی ملت سردارمحمدابراہیم خان کے سیاسی فلسفہ کے ماننے والے کسی کمیٹی کسی جتھے کاحصہ کسی صورت ہیں بن سکتے۔
مہاجرین نشستوں کاتحریک آزادی کشمیراورمقبوضہ کشمیرکے عوام سے ایک تحریکی جڑت کی عامت ہیں،ان کے استعمال اوران کے طریقہ انتخاب یاتعدادکے حوالے سے اختلاف کیاجاسکتاہے لیکن وہ ایکٹ74کاحصہ ہیں اورمقبوضہ کشمیرکے عوام کی نمائندگی ہے جسے ختم کرنابنیادی طورپرتحریک اوراس خطہ کے نظام وآئینی ڈھانچہ کوشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔البتہ قانون سازاسمبلی میں آئینی طریقہ کارکے مطابق صلاحات لائی جاسکتی ہیں لیکن یہ کسی کمیٹی کامینڈیٹ نہیں وہ خطہ کے اندرانتشارکوہوادے کرلاقانونیت وبدامنی کوہوادیں جے کے پی پی یہ فرض سمجھتی ہے کہ حقائق بیان کیے جائیں پوائنٹ سکورنگ ہماری سیاست کاحصہ نہیں۔
موجود ہ صورتحال کی ذمہ داری حکومت وقت پرہے غورطلب بات ہے کہ 12نئی2024ء کوجب عوامی احتجاج کوہالہ پہنچاتوسستی بجلی سستاآٹے کانوٹیفکیشن بھی آگیالیکن اس سب کے باوجودمظفرآبادمیں تین لوگ کی موت کاذمہ دارکون ہے۔ریاست کے اندرلاقانونیت انتشارکسی صورت برداشت نہیں کیاجاسکتا۔آزادکشمیرکاموجودہ سٹیٹس لازوال قربانیوں کے بعدحاصل کیاگیاہے جس میں بہتری کیلئے اصلاحات کی ضرورت ہے۔لیکن انتشارٹکراؤکی نظرکسی صورت نہیں کیاجاسکتا،حکومت وقت اورکمیٹی کوسنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس موجودہ صورتحال میں مذاکرات بات چیت سے حل کرناہوگا۔اورآزادکشمیرکی تمام سیاسی جماعتوں کواس صورتحال میں اپنارول دیناہوگا۔کیونکہ موجودہ وزیراعظم کو48ووٹ ان ہی سیاسی جماعتوں نے ڈالاجس میں سابق وزراء اعظم اورسینئرسیاست قیادت سب شامل تھے جموں وکشمیرپیپلزپارٹی اس عمل کاحصہ نہیں تھی،ایک طرف تویہ لوگ حکومت کاحصہ ہیں اوردوسری طرف ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کے بھی ذمہ دارہیں آج ریاست کے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرزکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتشاربدامنی کی کیفیت میں اپناکرداراداکریں جموں کشمیرپیپلزپارٹی اس ساری صورتحال میں اپنامثبت رول اداکرنے کیلئے ہرقدم اٹھائے گی۔