فطرت کیخلاف ندیوں پر شاہراہوں اور پلوں کی تعمیر،ملیر ندی بپھر گئی!!!

تحریر: نعیم اختر
=============

کراچی ہمیشہ سے سمندری ہواؤں، بارشوں اور ندیوں کے قدرتی بہاؤ کے رحم و کرم پر رہا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اپنے شہر کی رگوں کی مانند بہنے والی ان ندیوں کو نالوں میں بدل دیا۔ تجاوزات کے ڈھیر، سیوریج کا غلاظت بھرا پانی اور کچرے کے پہاڑ ڈال کر ہم نے ملیر اور لیاری ندی کو برباد کر ڈالا۔ آج وہی ندیاں، خاموشی سے برسوں کی زیادتیوں کا حساب لینے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہ بھٹو جام گوٹھ ملیر کے مقام پر سیلابی ریلے کی نذر ہو گئی۔ پانی نے ملیر ندی کے بیچوں بیچ کھڑی اس شاہراہ کو کاٹ ڈالا اور اپنی زمین واپس لے لی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ندی کے اندر سڑک بنانے سے پانی کا بہاؤ تنگ ہوا، نتیجتاً سڑک کئی مقامات سے بیٹھ گئی۔ یہ منظر کراچی کے باسیوں کو ایک بڑا سبق دے رہا ہے کہ قدرت کو چیلنج کرنا آخر کار ہمارے ہی لیے نقصان دہ ہے۔


لیاری اور ملیر کا مشترکہ غصہ گزشتہ دو روز کی بارشوں کے بعد کہ بن کر ٹوٹا ہے
کیرتھر کی پہاڑیوں پر برستی بارش جب تھڈو، مول اور کاٹھور ندی سے ہوتے ہوئے لیاری اور ملیر میں پہنچتی ہے تو یہ دونوں ندیاں محض پندرہ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ساتھ دہاڑنے لگتی ہیں۔ گزشتہ رات ملیر ندی میں پانی کی سطح بارہ فٹ جبکہ لیاری میں پندرہ فٹ ریکارڈ کی گئی۔ برسوں بعد اتنا پانی آیا ہے کہ ندیوں کے کنارے پر بسائی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور کچی آبادیاں ڈوبنے لگیں۔ یہ محض پانی نہیں، ندیوں کا انتقام ہے۔
یہ قدرت کا خاموش پیغام ہے
کراچی کے مئیر کو سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دریائے سندھ، راوی، ستلج، بیاس اور جہلم اپنے اپنے راستے مانگتے ہیں، اسی طرح لیاری اور ملیر ندیوں نے بھی اپنی زمینوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ یہ خاموش پیغام ہے: “میری زمین خالی کرو، ورنہ میں خود اسے واپس لوں گی۔” ماہرین کے مطابق اگلے برس 24 فیصد زیادہ بارشوں کا امکان ہے۔ اگر ابھی سے ہوش کہ ناخن نہ لیے تو صورتحال انتہائی تباہ کن ہو سکتی ہے جس کے نتائج انتہائی خطرناک نکل سکتے ہیں