سندھ میں ڈاکوؤں کی تاریخ | سندھ کے 5 بڑے ڈاکو کون؟


سندھ میں ڈاکوؤں کی تاریخ | سندھ کے 5 بڑے ڈاکو کون؟

سندھ میں ڈاکوؤں کی تاریخ | سندھ کے 5 بڑے ڈاکو کون؟
History of the Dacoits in Sindh | Sindh Kay 5 Bary Daku Kon?

بہت خوب! یوٹیوب ویڈیو کی دی گئی سکرپٹ کو استعمال کرتے ہوئے اردو میں ایک خبریں مضمون تیار کیا گیا ہے۔

### **سندھ میں ڈاکوؤں کی تاریخ: کون تھے سندھ کے 5 بڑے ڈاکو؟**

**حیدرآباد (نیوز ڈیسک)** – سندھ کے اندرونی علاقوں میں ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں ایک بار پھر تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے صوبے میں ڈاکوؤں کی پرانی تاریخ کو ایک بار پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ یہ وہی تاریخ ہے جس کی جڑیں عوامی لیگ کے دورِ حکومت (۷۰ کی دہائی) میں جا کر ملتی ہیں اور جو آج بھی صوبے کی سیاست اور معاشرے پر اپنے گہرے اثرات چھوڑ رہی ہے۔

**۷۰ کی دہائی: ڈاکوؤں کے عروج کا آغاز**

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ۷۰ کی دہائی میں، جب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم بنے، سندھ کے ڈاکوؤں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اس دور کے نامور ڈاکوؤں میں مہربان ڈاڈو، کھڈو اللمان اور تو چانڈیو شامل تھے۔

مشہور کتاب ‘ڈکیت’ کے مصنف پروفیسر امداد حسین سائیں کے مطابق، مہربان ڈاڈو ایک عام کسان تھا جس کی بہن کو ایک مقامی جاگیردار نے اغوا کیا۔ پولیس سے انصاف نہ ملنے پر اس نے اپنی بہن کی عزت کا بدلہ لینے کے لیے ڈکیتی کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہی وہ دور تھا جب پہلی بار کھڈو اللمان جیسے ڈاکوؤں نے لوگوں کو اغوا برائے تاوان کرنا شروع کیا، جبکہ اس سے پہلے زیادہ تر جانوروں کی چوری اور قتل ہی عام تھے۔

**۸۰ کی دہائی: ‘رابن ہڈ’ اور سیاسی کنکشن**

۸۰ کی دہائی سندھ میں ڈاکوؤں کے عروج کا سنہری دور کہلائی جا سکتی ہے۔ اس دور کا سب سے بڑا نام پرو چانڈیو تھا، جسے سندھ کا ‘رابن ہڈ’ کہا جاتا تھا۔ وہ ایک عام کسان تھا جس نے پولیس کے مظالم کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ اس نے امیروں کو لوٹا اور غریبوں میں مال تقسیم کیا، جس کی وجہ سے عوام میں اس کی ایک الگ ہی مقبولیت تھی۔ ۲ اگست ۱۹۸۱ کو جیکب آباد میں اس نے نو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر کے اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔

اسی دور کا ایک اور خطرناک ڈاکو باکا ڈار شاہ تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ۶۰ سے زائد افراد کا قاتل تھا۔ رپورٹس کے مطابق، باکا ڈار شاہ کی طاقت کے پیچھے سندھ کی معروف سیاسی شخصیت جی ایم سید کا خاندان تھا۔ ۱۲ جنوری ۱۹۸۸ کو فوجی آپریشن میں اسے، اس کے بھائی اور بھتیجے کو جی ایم سید کے بیٹے امیر حیدر شاہ کے ایک کوٹھے میں ہلاک کر دیا گیا۔

**ڈاکوؤں اور سیاست کا گٹھ جوڑ**

۸۰ کی دہائی میں ہی ڈاکوؤں کا سیاست سے گہرا تعلق واضح ہونا شروع ہوا۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ کس طرح نامور سیاستدان سید فیصل صالح حیات کے بھائی سید نوید اور معروف تاجر سید سلیمان داؤد کو ڈاکوؤں نے اغوا کیا اور لاکھوں روپے کے تاوان کے بعد رہا کیا۔

۱۹۸۳ میں ایم آر ڈی (بحالی جمہوریت) تحریک کے بعد فوجی حکومت نے سندھ کے عوام پر جبر شروع کیا، جس کے نتیجے میں چانڈیو قبیلے سمیت کئی دیگر نے ہتھیار اٹھا لیے۔ یہی وہ نسل تھی جس نے بعد میں نامور ڈاکو پیدا کیے اور سندھ میں ڈکیتی اور اغوا کے واقعات کو ایک نیا روپ دیا۔

**حالیہ صورتحال: ایک بار پھر سے عروج**

حالیہ رپورٹس کے مطابق، صورتحال یکلخت بدلی نہیں ہے۔ مارچ ۲۰۲۴ کی ایک رپورٹ کے مطابق، صرف دو ماہ میں سندھ میں ۲۰۰ سے زائد شاعرین اور تاجروں کو اغوا کیا گیا، جن میں سے صرف ۵۰ کی رہائی ممکن ہو سکی۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، راوڑ میں سالانہ اغوا برائے تاوان سے ڈاکو ایک ارب روپے کماتے ہیں۔

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ پولیس نے فروری ۲۰۲۳ میں ۲ ارب ۸۰ کروڑ روپے مالیت کے جدید اسلحے کا آرڈر دیا تھا، جس کا مقصود ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کو تیز کرنا تھا۔

**نیچے دیے گئے لنک پر مکمل ویڈیو دیکھیں:**
[**تاریخ سندھ کے ڈاکوؤں کی | سندھ کے 5 بڑے ڈاکو کون؟**](https://www.youtube.com/watch?v=8hBkbmmtIwk)

https://www.youtube.com/@jeeveypak