
تحرير ؛ رفعت سعيد

“پاکستانی صحافت گرداب ميں ”
“سرکاری گرانٹ اور فنڈز صرف پريس کلب کو ملنا چاہيئيں”
“ايک کيمرہ مين کی شريان پھٹنے سے موت اور دوسرے کيمرہ مين کا تنگ دستی کی وجہ سے بيوی کو قتل کر دينا الارمنگ ہے “
اگر صحافی آنے والے دنوں ميں زندہ اور اپنے حالات بہتر کرنا چہاتے ہيں تو تمام صحافتی تنظيوں اور مختلف بيٹ رپورٹرز کی تنظيوں کو غير فعال کرکے ،صرف ايک پليٹ فام پر جمع ہوجائيں تو شائيد آپ کے مرنے کے بعد آپ کا خاندان دربدر کی ٹھوکريں نہيں کھائے گا؟
اگر صحافتی تنظيميں اور پريس کلب ، حکومت سے ملنے والی امدادی رقم بلا تخصيص کہ مرنے والا صحافی کس گرپ ؟ کس يو کے ؟ کا ممبر ہے تو آپ کو اپنے بچھڑنے والے صحافی دوستوں کے اہل خانہ کی خبر گيری کے لئے ، چينل اور اخباری مالکان کی منت سماجت نہيں کرنا پڑے گی، ساتھ ہی اکابرين صحافت ، حکومت سے درخواست کريں کہ گرانٹ اور ہر قسم کی امداد صرف اور صرف پريس کلب کو دی جائے ، چھوٹے چھوٹے گرپوں ، اور مختلف بيٹس کے نام پر بنے والی تنظيموں کی مالی امداد فوری طور پر بند کردينا چاہيئيں ،
اس وقت صحافت کا پيشہ شديد لسانی گرداب ميں ہے، ديگر۔ پريس کلبوں کا احوال تو مجھے نہيں معلوم ؟ مگر کراچی ميں ہر زبان رنگ نسل کے لوگ آباد ہيں اسی لئے کراچی پريس کلب ميں، سندھی ، مہاجر، پنجابی، بلوچی، پختون ، کشميری ، اور ہزار وال اورانکی بھی سب شاخ سے تعلق رکھنے والے ممبر ہيں ،
مگر ان سب کے درميان تناؤ اور کشمکش صاف طور پر محسوس کی جاسکتی ہے ، ہوسکتا ہو کہ ميری آبزر ويشن غلط ہو، اور ويسے بھی ملک کی مجموعی صورتحال اور معاشرے ميں پھيلی ہوئی گھٹن کا شاخسانہ ہو ، مگر سب کے درميان عدم برداشت کے ساتھ مکالمہ کا فقدان ہے ، ہر شخص سوشل ميڈيا پر بدتميزی اور ايک دوسرے کے گندے کپڑے چوراہے پر اتارنے پر فخر محسوس کرتا ہے ،
مفاد پرست ، انا پرست صحافتی رہنماؤں کے مفاد پر اس کوشش کی کاميابی سے زد ضرور پڑے گی، منفی تبصرے بھی ہونگے، پريس کلبوں ميں چائے کی ٹيبل پر گپ لگا کر سوشل ميڈيا پر ايک دو جذباتی پوسٹ ڈال کر یہ نہ سمجھيں کہ آپ کے گروپ کی سياسی ذمہ داری پوری ہو گئی،
واضع رہے ميری پوسٹ کے مخاطب تمام صحافتی تنظيوں گے گروپ ہيں ،
تلاش کريں آپ کے ارد گرد کلب ميں اور آفس ميں ايسے کئی سفيد پوش صحافی ہونگے ، جنہيں آپ کی اخلاقی اور سرکار سے کروڑوں کے فنڈ لينے والی تنظموں کی مدر درکار ہوگی ، انکی مدد کريں مگر اس بات کو ملحوظ خاطر رکھيں کہ کسی صحافی کی عزت نفس مجروح نہ ہو ،
پھر وضاحت کردوں کہ اس ميں نہ ميرا کوئی مفاد ہے ، اور نہ کوئی سیاسی ايجنڈا ، بس کسی اور صحافی کے مرنے سے قبل ، ٹھنڈے دل دماغ سے غور کريں ، زرا سوچئے























