یومِ دفاع — قربانی اتحاد اور عزم کا دن!!

✍️ نعیم اختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

6 ستمبر پاکستان کی قومی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جو ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ یہ دن محض ایک تاریخی واقعے کی یادگار نہیں بلکہ ہمارے قومی کردار، ایمان اور استقامت کی علامت ہے۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا تو اسے شاید اندازہ نہ تھا کہ یہ قوم ایک جاں باز فوج اور زندہ دل عوام کی محافظ ہے۔
یہ معرکہ صرف توپ اور ٹینک کا نہیں تھا بلکہ یہ ایمانی قوت، حب الوطنی اور قربانی کے جذبے کا مظاہرہ تھا۔ لاہور کی سرزمین پر جب بھارتی فوج نے قدم رکھنے کی کوشش کی تو جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جس بہادری سے بھارتی ایئر بیسز پر حملے کیے اور فضاؤں میں دشمن کو ناکوں چنے چبوائے، وہ آج بھی دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک روشن باب ہے۔ بحریہ کے جانبازوں نے سمندروں میں دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔یومِ دفاع ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ وطن کا تحفظ صرف افواج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا فریضہ ہے۔ 1965 میں ہر شہری ایک سپاہی تھا، چاہے وہ محاذِ جنگ پر موجود تھا یا پچھلے مورچوں میں۔ خواتین نے خون کے عطیات دیے، بچے جوانوں کے لیے دعائیں کرتے رہے، اور کسان اپنی محنت سے محاذ کو زندہ رکھنے کے لیے اناج فراہم کرتے رہے۔ یہ وہ یکجہتی تھی جو دشمن کے خوابوں کو چکنا چور کر گئی۔آج جب ہم یومِ دفاع مناتے ہیں تو ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم اپنی موجودہ نسل کو وہی جذبہ منتقل کر پا رہے ہیں؟ ملک کو درپیش چیلنجز، اندرونی و بیرونی سازشیں اور معاشی مشکلات ہمیں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ اتحاد اور قربانی کا وہی جذبہ دوبارہ زندہ کیا جائے جو 1965 میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔یقیناً شہداء کی قربانیاں اور غازیوں کا حوصلہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں یہ عہد کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے وطن کے دفاع، ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، کیونکہ یہ محض ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریے کی تکمیل ہے، جس کی حفاظت ایمان اور قربانی سے ہی ممکن ہے۔