پنجاب میں دریائے جہلم میں پانی کی سطح بلند

صوبہ پنجاب میں دریائے جہلم میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں جھنگ میں ایک بڑا ریلہ داخل ہو گیا ہے اور خوشاب میں بھی خطرے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارت نے دریائے جہلم میں پانی چھوڑا، جس کی وجہ سے خوشاب میں سیلابی خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ جھنگ میں تاریخی پل کے قریب شگاف ڈال کر دریائے جھلم کے پانی کا ایک حصہ موڑ دیا گیا۔ چنڈ ریلوے ایمبنکمنٹ پر کیے گئے انتظامات سے 4 لاکھ 96 ہزار کیوسک پانی میں سے تقریباً 1 سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک پانی کا رخ تبدیل کیا گیا، جس سے 25 سے 30 دیہات محفوظ ہو گئے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ پانی منگلا ڈیم میں ذخیرہ نہ کیا گیا تو دریائے چناب میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، بھارت کی جانب سے جہلم دریا میں اضافی پانی چھوڑنے کی صورت میں آزاد کشمیر اور دریائے جہلم کے قریبی شہروں اور دیہات میں بھی سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے نے تینوں مشرقی دریاؤں میں شدید سیلابی صورتحال کے پیش نظر سندھ کے نشیبی علاقوں کے لیے بھی خطرے کی وارننگ جاری کی ہے۔ خطرے کے تحت اوور فلو، بند ٹوٹنے اور مقامی علاقوں کے زیرِ آب آنے کے امکانات موجود ہیں۔ گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن میں اگلے 12 سے 18 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق راوی، چناب اور ستلج میں شدید طغیانی کے باعث صوبے میں 14 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 1769 موضع جات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ چناب میں 991 دیہات ڈوب گئے ہیں، سیالکوٹ میں 395، جھنگ میں 127، ملتان میں 124، چنیوٹ میں 48، گجرات میں 66، خانیوال میں 51، حافظ آباد میں 45، سرگودھا میں 41، منڈی بہاالدین میں 35 اور وزیرآباد میں 19 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 2 لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔