ملک میں مون سون کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کے باعث لاہور سمیت پنجاب اور دیگر صوبوں کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں۔ لاہور کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ کاہنہ کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ فیروزوالہ میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون زندگی کی بازی ہار گئی اور تین افراد زخمی ہوئے۔
پنجاب کے دیگر شہروں بشمول فیصل آباد، نارووال اور بہاولنگر میں بھی تیز بارش ہوئی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور کئی مقامات پر فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ ملکہ کوہسار مری میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا جبکہ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع، خصوصاً میرپور اور باغ میں موسلادھار بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا۔ اسی طرح ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں بھی بادل جم کر برسے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں موسلادھار بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ادارے نے نشیبی علاقوں میں ممکنہ سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں ہفتے سے منگل تک بارش کا امکان ہے جبکہ شمالی اور شمال مشرقی پنجاب کے اضلاع، بشمول لاہور اور سیالکوٹ، اتوار اور پیر کو بارشوں کی لپیٹ میں رہیں گے۔
اس کے علاوہ وسطی اور جنوبی پنجاب میں 29 سے 31 اگست کے دوران بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی شدید بارشوں کا امکان ہے۔ مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باعث ضلعی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 30 اگست سے 2 ستمبر تک بارش کی پیشگوئی ہے جہاں اربن فلڈنگ اور سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ سندھ کے دیگر اضلاع اور بلوچستان میں بھی بارش کا امکان ہے۔























