سیلابی صورتحال سنگین، لاکھوں افراد محفوظ مقامات کی طرف منتقل

ملتان میں ممکنہ سیلابی ریلے کے پیش نظر تقریباً 3 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان میں بھی سیلابی پانی داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نشیبی اور دریائی علاقوں کے رہائشیوں کو احتیاطی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شام تک ایک بڑا ریلہ ملتان کی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ متاثرہ افراد نے انتظامیہ پر کشتیوں کی کمی اور مویشیوں کی منتقلی کے ناقص انتظامات کے حوالے سے شکایات بھی کی ہیں۔

جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج میں 50 ہزار کیوسک پانی گزرنے سے تقریباً 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ پر نشیبی علاقے خالی کرائے جا رہے ہیں جبکہ بہاولپور میں بھی ستلج کے کنارے آباد لوگ محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں سیلابی خطرے کے باعث ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

دریائے چناب میں آنے والے ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حافظ آباد کے 40 دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں تلوار پوسٹ کے قریبی دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک پانی کے اخراج کے ساتھ غیر معمولی سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔

ادھر ہیڈ اسلام پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی آمد و اخراج ایک لاکھ 38 ہزار 58 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وہاڑی میں ضلعی انتظامیہ نے 133 بستیوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع بھر میں 49 ہزار 573 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 30 ہزار 380 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔