سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے عوام کو فراہم بڑی سہولت شاہراہِ بھٹو کے افتتاح کو ابھی چند ماہ ہوئے ہیں کہ حالیہ بارش میں یہ شاہراہ کئی مقامات پر متاثر ہوئی ہے۔
شاہراہِ بھٹو کو قائد آباد تک کھولتے ہوئے جون میں افتتاح کیا گیا تھا، عین اس مقام کے الٹے ہاتھ پر حالیہ بارش کے باعث شاہراہ کا 50 فٹ حصہ پانی میں بہہ گیا جس سے حفاظتی گرل، نکاسی کی نالیاں اور لائٹس کے پول گر گئے اور سڑک کا کچھ حصہ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، جس کی مرمت کا کام تاحال شروع نہیں کیا گیا۔
قیوم آباد کی طرف آتے ہوئے شرافی گوٹھ کے قریب ندی کی طرف کے ٹریک کے کنارے میں 100 فٹ تک دراڑیں آ گئیں۔
قائد آباد جاتے ہوئے عظیم پورہ کے قریب 20 فٹ کا حصہ خطرناک طریقے سے بیٹھ گیا جس کی پیچنگ کی جا رہی ہے۔
شاہ فیصل انٹرچینج کے قریب بھی نامکمل چھوڑی گئی شاہراہ کا کچھ حصہ پانی میں رہ گیا، اسی طرح کورنگی کازوے پل کے اختتام پر 20 فٹ سڑک بیٹھ گئی تھی جس پر پیچ لگایا جا رہا ہے۔
پروجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق شاہراہِ بھٹو کا افتتاح کیے جانے کے بعد بھی کام جاری ہے، جہاں کچھ نقائص سامنے آ رہے ہیں، ان کو ٹھیک کیا جا رہا ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے ترجمان کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ شاہراہِ بھٹو کا انفرااسٹرکچر انتہائی مضبوط ہے، حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔
Load/Hide Comments























