ٹپال چائے کی متاثر کن کہانی | کراچی کی سڑکوں سے پاکستان کے نمبر 1 چائے کے برانڈ تک

ٹپال چائے کی متاثر کن کہانی | کراچی کی سڑکوں سے پاکستان کے نمبر 1 چائے کے برانڈ تک

ٹپال چائے کی متاثر کن کہانی | کراچی کی سڑکوں سے پاکستان کے نمبر 1 چائے کے برانڈ تک
The Inspiring Story of Tapal Tea | From Karachi Streets to Pakistan’s No.1 Tea Brand | Ammarify

بالکل، یہ ہے اردو میں ایک خبریں مضمون کی شکل میں جو آپ کے فراہم کردہ ٹرانسکرپٹ سے تیار کیا گیا ہے۔

### **ٹیپل ٹی کی متاثر کن کہانی: کراچی کی گلیوں سے پاکستان کی نمبر 1 چائے بننے تک کا سفر**

**کراچی:** سنہ 1947 کا سال تھا۔ پاکستان ابھیا نیا نیا آزاد ہوا تھا۔ ہندوستان سے پاکستان ہجرت کرکے آنے والے لوگوں کی زندگیاں ابھی تک مشکلات سے بھری ہوئی تھیں۔ کراچی ملک کا تجارتی مرکز بن رہا تھا لیکن شہر کے کئی ایمرجنسی علاقوں میں بجلی کی کمی تھی، پانی کا بحران تھا اور لوگ نئی زندگی کو آباد کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔

اس شہر کی گلیوں میں ایک چیز مشترک تھی: چائے کی خوشبو۔ ہر علاقے کے چوراہوں پر چھوٹی چھوٹی چائے کی دکانیں سجی ہوتی تھیں، جہاں لوگ صرف ایک کپ چائے ہی نہیں پیتے تھے بلکہ اپنی تھکن اور دل کا بوجھ ہلکا کرتے تھے۔ چائے کی اسی ثقافت نے ٹیپل ٹی کی کہانی کو جنم دیا۔

**ایک خواب کی شروعات**

1947 کے بعد ایک چھوٹے تاجر، آدم علی ٹیپل، نے کراچی کے مصروف بازاروں میں خشک چائے پتی کی فروخت شروع کی۔ اس وقت پاکستان درآمد شدہ چائے کے برانڈز پر زیادہ انحصار کرتا تھا۔ ‘لیپٹن’ اور ‘بروک بانڈ’ جیسے غیر ملکی برانڈز پاکستان کی مارکیٹوں پر چھائے ہوئے تھے۔

آدم علی ٹیپل کو ان تمام باتوں کا علم تھا لیکن ان کا ویژن بالکل مختلف تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر مقامی لوگوں کے ذائقے کے مطابق چائے بنائی جائے تو ان درآمد شدہ برانڈز کو مقابلے کی ٹکر دی جا سکتی ہے۔ تاہم، محدود وسائل، کم مارکیٹنگ بجٹ، اور ایک نئے ملک جہاں معیشت ابھی تشکیل پارہی تھی، میں یہ راستہ انتہائی دشوار تھا۔ ہر روز چیزوں کی سپلائی رک جاتی، کبھی مانگ کا اندازہ غلط ہوتا، لیکن آدم علی ٹیپل نے کبھی اپنی چائے کے معیار سے سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

**کامیابی کا转折点**

1960 تک ٹیپل ٹی کراچی کے مقامی علاقوں میں مشہور ہوچکی تھی۔ لوگ منہ بولتے ہوئے اس چائے کی مارکیٹنگ کر رہے تھے۔ لیکن 1965 میں ایک بڑا چیلنج سامنے آیا: مقابلے کا دباؤ۔ غیر ملکی برانڈز اپنی مصنوعات کی پہنچ بڑھانے کے لیے جارحانہ اشتہاربازی اور تقسیم کر رہے تھے اور پاکستان کی گھریلو مارکیٹ کے بڑے حصوں پر قبضہ کر رہے تھے۔

ایسے میں آدم علی کے صاحبزادے افتخار علی ٹیپل (افتاب ٹیپل) نے خاندانی کاروبار میں شامل ہو کر نئے جوش و خیالات کا اضافہ کیا۔ افتاب کا خیال تھا کہ چائے محض ایک مشروب نہیں بلکہ پاکستانیوں کے لیے ایک جذباتی وابستگی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ٹیپل پریمیم اور عوام دوست دونوں طرح کی مصنوعات بنائے گا۔ انہوں نے چائے بلینڈنگ میں جدت لا کر ہر خطے کے ذائقے کو سمجھا اور اس کے مطابق الگ الگ چائے کے بلینڈ تیار کیے، جیسے مضبوط چائے پسند کرنے والوں کے لیے ‘ٹیپل گولڈ’ اور ہلکی چائے پسند کرنے والوں کے لیے الگ پروڈکٹ لائن۔

یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی۔ جہاں غیر ملکی برانڈز صرف ایک قسم کی چائے پیش کر رہے تھے، وہیں ٹیپل اپنے صارفین کو ان کے ذائقے کے مطابق Variety دے رہا تھا۔

**ایک برانڈ کی تخلیق: ‘ڈانملہ’ کا عروج**

1980 کی دہائی میں ٹیپل نے اپنی سب سے مشہور اور آئیکونک پروڈکٹ ‘ٹیپل ڈانملہ’ متعارف کرائی۔ یہ برانڈ پاکستانی مارکیٹ میں ہمیشہ کے لیے ایک نئی پہچان بن گیا۔ چائے کی دکانوں، گھروں اور فیکٹریوں سے صرف ایک آواز آنے لگی: “ڈانملہ لے آؤ!”

ٹیپل کی مارکیٹنگ اب وسیع پیمانے پر ٹی وی چینلز پر ہونے لگی، جس کا نعرہ تھا: **”ہر جگہ ڈانملہ کا مزا!”** یہ نعرہ اتنا پرکشش تھا کہ عوام کے دلوں میں بیٹھ گیا۔ ٹی وی اشتہارات، بل بورڈز اور ریڈیو کے ذریعے ٹیپل ایک گھریلو نام بن گیا۔

**مشکلات اور کامیابی**

تاہم، ٹیپل کا سفر ہموار نہیں تھا۔ غیر ملکی برانڈز نے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے جارحانہ قیمتوں میں کمی اور سپلائی چین مضبوط کی۔ اس کے جواب میں، افتاب ٹیپل نے سپلائی چین کو مضبوط کیا اور پروڈکٹ کی پیکجنگ پر کام کیا۔ ان کے چائے کے پیکٹ ہوائی بند تھے، جو تازگی اور خوشبو کو برقرار رکھتے تھے۔ یہی انفرادیت اس برانڈ کو competitors سے الگ کرتی تھی۔

**قومی اور بین الاقوامی توسیع**

1990 تک ٹیپل صرف کراچی تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ہر شہر میں اس کی تقسیم کا نیٹ ورک مضبوط ہو چکا تھا۔ معیار کو یقینی بنانے کے لیے الگ بلینڈنگ لیبز قائم کی گئیں اور ٹیپل پاکستان کی پہلی مقامی برانڈ بنی جس نے سائنسی بلینڈنگ اور تحقیق کے ذریعے چائے کو ایک نئی پہچان دی۔

2000 کی دہائی میں افتاب ٹیپل نے ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر توسیع کا فیصلہ کیا۔ ٹیپل ڈانملہ مشرق وسطیٰ، یورپ، امریکا، برطانیہ اور دبئی کی دکانوں پر جگہ بنا کر پاکستان کی پہلی عالمی چائے کی برانڈ بن گئی۔

**آج کی کامیابی**

آج ٹیپل ڈانملہ پاکستان کی چائے کی مارکیٹ میں 40% سے زیادہ مارکیٹ شیئر کے ساتھ نمبر 1 پوزیشن پر ہے۔ یہ کامیابی صرف چائے بیچنے تک محدود نہیں ہے۔ یونیورسٹی کیمپسز میں اسٹالز، کرکٹ اسپانسرشپ، تخلیقی مہمات، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کامونٹی کی مدد نے نوجوان نسل کو اس برانڈ سے جوڑا ہے۔ ٹیپل ڈانملہ، ٹیپل ہاؤس، ٹیپل فیملی مکسچر، اور ٹیپل گرین ٹی جیسی مصنوعات کے ذریعے اس نے ہر طبقے کے لیے انتخاب پیدا کیا ہے۔

**نتیجہ**

کراچی کی ایک چھوٹی سی دکان سے شروع ہونے والی یہ کہانی آج عالمی مارکیٹ تک پہنچی ہے۔ یہ کامیابی ایک ویژن، مستقل مزاجی، اور معیار سے سمجھوتہ نہ کرنے کی داستان ہے۔ ٹیپل کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ اگر آپ اپنی ثقافت اور لوگوں کی ضروریات کو سمجھیں اور ان کے مطابق کام کریں تو آپ دنیا کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی کی کہانیوں میں سے ایک ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi