
بزنس مین سر انور پرویز بیسٹ وے گروپ کی کامیابی کی کہانی
بزنس مین سر انور پرویز بیسٹ وے گروپ کی کامیابی کی کہانی
Success Story of Businessman Sir Anwar Pervez Bestway Group
بالکل، یہ ہے سر انور پرویز کی کامیابی کی کہانی پر مبنی ایک خبریں مضمون:
**سر انور پرویز: بس کنڈکٹر سے ارب پتی تاجر تک کا غیر معمولی سفر**
لندن/اسلام آباد: پاکستانی نژاد برطانوی تاجر سر انور پرویز کی کامیابی کی داستان نہ صرف ہمت اور محنت کی اعلیٰ مثال ہے بلکہ پاکستان کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات کی بھی غماز ہے، جنہوں نے ایک غریب گھرانے سے نکل کر دنیا کے کامیاب ترین تاجروں میں سے ایک کا مقام حاصل کیا۔
سر انور پرویز نے محض 21 سال کی عمر میں پاکستان چھوڑا اور برطانیہ کے شہر بریڈفورڈ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس رہائش اختیار کی۔ معمولی تعلیم کے حامل انور نے وہاں مزدوری شروع کی، لیکن جلد ہی ان کے رشتہ داروں نے انہیں گھر سے نکال دیا۔ اس کے بعد انہوں نے بس کنڈکٹر کی نوکری اختیار کی اور ڈبل شفٹیں کر کے محنت کی۔
سات سال تک کنڈکٹری کرنے کے بعد، انور پرویز نے اپنی جمع پونجی سے لندن میں ایک چھوٹا سا اسٹور کھولا۔ ان کی لگن اور محنت نے اسے ایک کامیاب کاروبار میں بدل دیا۔ وہ دیر تک دکان کھولتے، کم منافع پر سامان بیچتے اور اپنا تمام منافع دوبارہ کاروبار میں لگا دیتے تھے۔
انہی اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ان کا یہ چھوٹا اسٹور ‘بیسٹ وے’ کیش اینڈ کیری میں تبدیل ہو گیا، جو آج برطانیہ کی سب سے بڑی ریٹیل چینز میں سے ایک ہے۔ بیسٹ وے گروپ کا سالانہ ٹرن اوور 4 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
سر انور پرویز نے پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر کاروبار اور فلاحی کاموں میں حصہ ڈالا ہے۔ یو بی ایل بینک، میکرو اور بیسٹ وے سیمنٹ جیسی بڑی کمپنیاں ان ہی کی ملکیت ہیں، جن سے ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار مل رہا ہے۔
ان کی سب سے قابل تعریف بات یہ ہے کہ وہ اپنے کاروبار کے منافع کا 2.5% حصہ ‘بیسٹ وے فاؤنڈیشن’ کو دیتے ہیں، جس کے تحت درجنوں اسکول اور یونیورسٹیاں چل رہی ہیں اور لاکھوں بچے مستفید ہو رہے ہیں۔
ان کی خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ نے انہیں 1992 میں ‘او بی ای’ اور 1999 میں ‘نائٹ ہڈ’ یعنی ‘سر’ کا خطاب دیا، جو کسی بھی پاکستانی کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
اپنی ایک تقریر میں سر انور پرویز نے کہا تھا کہ “ہم جیسے لوگ جو محنت مزدوری کر کے پیسہ کماتے ہیں اور پاکستان بھیجتے ہیں وہ اصلی پاکستانی ہیں، ان لوگوں کی بجائے جو پاکستان سے پیسہ بنا کر بیرون ملک لے جاتے ہیں۔”
سر انور پرویز کی کہانی ہر اس نوجوان کے لیے ایک مشعل راہ ہے جو محنت اور عزم کے بل بوتے پر ناممکن کو ممکن بنانا چاہتا ہے۔
===========================
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi























