لاہور-اسلام آباد موٹروے (ایم ٹو) کے ٹول ٹیکس میں اضافہ، نئے نرخ جاری

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے لاہور-اسلام آباد موٹروے (ایم ٹو) کے لیے ٹول ٹیکس کی نئی شرحوں کا باضابطہ اعلان کردیا ہے، جو 26 اگست 2025 سے نافذالعمل ہوں گی اور 25 اگست 2026 تک برقرار رہیں گی۔
یہ اضافہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی ذیلی کمپنی موٹروے آپریشنز اینڈ ری ہیبیلیٹیشن انجینئرنگ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے ساتھ کیے گئے بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (BOT) معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔

ٹول ٹیکس میں اضافے کی وجہ؟

این ایچ اے کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ اضافہ 2014 میں ایف ڈبلیو او کی آپریٹنگ کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، جس میں ہر سال 10 فیصد ٹول میں اضافہ لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس رقم کو موٹروے کی آپریشن، بحالی اور مرمت پر خرچ کیا جائے گا۔

ایم ٹو (لاہور تا اسلام آباد) کے لیے نئی ٹول ٹیکس شرحیں
گاڑی کی قسم ایک طرفہ ٹول فیس فی کلو میٹر ریٹ
کار، جیپ، ٹیکسی (کلاس 1) 1,330 روپے 3.72 روپے
ویگن (کلاس 2) 2,240 روپے 6.24 روپے
بسیں 3,130 روپے 8.73 روپے
دو ایکسل ٹرک (کلاس 4) 4,460 روپے 12.45 روپے
تین ایکسل ٹرک (کلاس 5) 5,800 روپے 16.20 روپے
آرٹیکولیٹڈ ٹرک (کلاس 6) 7,460 روپے 20.83 روپے
BOT ماڈل کیا ہے؟

بی او ٹی ماڈل کے تحت نجی کمپنیاں عوامی انفراسٹرکچر تعمیر اور آپریٹ کرتی ہیں اور ایک مقررہ مدت کے بعد اسے حکومت کے حوالے کردیا جاتا ہے۔

ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی ایم ٹو کو آپریٹ کر رہی ہے اور حاصل ہونے والی آمدنی موٹروے کی بحالی، حفاظتی اقدامات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ کی جارہی ہے۔

نفاذ کی تاریخ

نئے ٹول ریٹس کا آغاز: 26 اگست 2025

لاگو رہنے کی مدت: 25 اگست 2026 تک

این ایچ اے نے ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سفری منصوبہ بندی اور بجٹ میں نئے ریٹس کو مدِنظر رکھیں، خاص طور پر لمبے کمرشل روٹس پر جہاں سب سے زیادہ اثر پڑے گا۔