جب کرکٹ میں ایک اننگز میں تین بلے بازوں نے سنچریاں بنائیں

“آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان سیریز کے آخری ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا نے 431 رنز بنائے، جن میں تین بلے بازوں کی سنچریز شامل ہیں، مگر یہ ایک روزہ کرکٹ میں پہلی بار نہیں ہوا کہ ایک ٹیم کے تین کھلاڑی سنچری یا اس سے زیادہ رنز بنائیں؛ اس سے پہلے بھی چار مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔”

جنوبی افریقہ کی ٹیم جسے اس بار تین سنچریاں اور 400 سے زائد رنز کا سامنا کرنا پڑا، خود بھی تین مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکی ہے۔

2015 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ میچ میں ہاشم آملہ، کوئنٹن ڈی کاک اور اے بی ڈی ویلیئرز نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں بنائیں۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ نے بھارت کے خلاف بھی ایک ODI میں یہ کارنامہ کیا، جب اے بی ڈی ویلیئرز، ڈی کاک کے ساتھ فاف ڈو پلیسیس نے سنچری بنائی۔
ورلڈ کپ 2023 میں سری لنکا کے خلاف بھی جنوبی افریقہ کے تین بلے بازوں نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں بنائیں، جن میں ایک بار پھر کوئنٹن ڈی کاک شامل تھے، اور ان کے ساتھ راس ون ڈر ڈوسن اور آئیڈن مارکرم نے یہ کارنامہ انجام دیا۔


اسی طرح انگلینڈ کی ٹیم نے بھی نیدرلینڈز کے خلاف ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔