چونکا دینے والا اے ٹی سی اسرار: پی آئی اے کے جمبو جیٹ کی ان کہی کہانی!

چونکا دینے والا اے ٹی سی اسرار: پی آئی اے کے جمبو جیٹ کی ان کہی کہانی!

چونکا دینے والا اے ٹی سی اسرار: پی آئی اے کے جمبو جیٹ کی ان کہی کہانی!
Shocking ATC Mystery: The Untold Story of PIA’s Jumbo Jet!

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے بوئنگ 747 کے قریب الوقوع حادثے کی پُراسرار داستان سامنے آگئی۔

لاہور: ہوائی تاریخ کے ایک پوشیدہ اور حیرت انگیز واقعے نے پردہ اٹھایا ہے جب پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ایک جدید ترین جَمبو جیٹ بوئنگ 747، جو جدہ جا رہا تھا، ایک انوکھی غلطی کے باعث راستہ بھٹک کر اسلام آباد کے ایک حساس فوجی علاقے کے قریب پہنچ گیا، جہاں اسے قریب الوقوع تباہی سے بمشکل بچایا جا سکا۔

یہ واقعہ 1991 کا ہے جب لاہور ایئرپورٹ کے ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) نے اپنی ڈیوٹی کے دوران ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس وقت لاہور ایئرپورٹ پر ریڈار سسٹم نہیں تھا اور ‘پروسیجر کنٹرول’ کے ذریعے ہوائی جہازوں کو کنٹرول کیا جاتا تھا، جہاں پائلٹز اپنی پوزیشن کی ریڈیو کے ذریعے رپورٹ دیتے تھے۔

واقعے کی تفصیلات کے مطابق، پی آئی اے کا جَمبو جیٹ بوئنگ 747 لاہور سے جدہ کے لیے رن وے 36 سے روانہ ہوا۔ ہوائی جہاز کو مخصوص راستے (روٹ) پر چلنا تھا جس کا نمبر ریڈیل 231 تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جہاز کو زمینی سٹیشن سے آنے والے 231 نمبر کے سگنل کو پکڑتے ہوئے پرواز کرنی تھی۔

تاہم، پی آئی اے کے ایک انتہائی تجربہ کار کیپٹن، جنہیں ملک کے بہترین پائلٹس میں شمار کیا جاتا تھا، سے ایک انتہائی بنیادی نوعیت کی غلطی سرزد ہو گئی۔ جہاز کے آٹو پائلٹ سسٹم کو سیٹ کرتے وقت انہوں نے راستے کے نمبر 231 کی بجائے 321 سیٹ کر دیا، جو درحقیقت اسلام آباد جانے والے راستے کا نمبر تھا۔

اس غلطی کے باعث جہاز لاہور کے جنوب مغرب میں 25 میل کے مقام ‘لیمام’ کی بجائے، لاہور کے شمال مشرق کی طرف اسلام آباد کے قریب ایک حساس فوجی علاقے کی طرف بڑھنے لگا۔ پائلٹ نے ایٹی سی کو غلط پوزیشن رپورٹ کی، حالانکہ اس کے پاس جدید ترین نیویگیشنل آلات (DME) موجود تھے جو درست مقام بتا سکتے تھے۔

صورت حال اس وقت سنگین تر ہو گئی جب ایئر ڈیفنس نے محسوس کیا کہ ایک ‘نامعلوم’ ہوائی جہاز ایک غیر مقررہ راستے پر چل رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں۔ ایئر ڈیفنس نے ایمرجنسی فریکوئنسی پر کال کی جسے سن کر پی آئی اے کے کیپٹن کو اپنی بھول کا احساس ہوا۔

انہوں نے فوری طور پر جہاز کو موڑا اور درست راستے پر ڈالا، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انہوں نے اس غلطی اور راستے میں تبدیلی کی کوئی اطلاق ایئر ٹریفک کنٹرول کو نہیں دی، جس سے راستے میں دیگر ہوائی جہازوں سے ٹکراؤ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔

اس واقعے پر وزیراعظم سطح پر انکوائری ہوئی۔ ابتدائی طور پر اس غلطی کا الزام ایئر ٹریفک کنٹرولر پر لگایا گیا، تاہم بعد ازاں حقائق سامنے آئے کہ یہ پائلٹ کی ایک انسانی غلطی تھی۔ اس واقعے کے بعد لاہور سے نکلنے والے جہازوں کے راستوں کے نمبرز میں تبدیلی کی گئی تاکہ مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچا جا سکے۔

یہ واقعہ انسانی غلطیوں کے سنگین نتائج اور جدید ترین نظاموں میں بھی محتاط رویے کی极端 اہمیت کی ایک یاد دہانی ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi