وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف میں ہوٹلز یا دیگر تعمیرات کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کے لیے قومی سطح پر مہم شروع کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم نے وزارتِ آبی وسائل کو ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں واٹر سپلائی نظام کی بحالی کے لیے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد قومی ذمہ داری ہے۔ ریسکیو اور فوری امداد کے بعد متاثرین کی بحالی کے اقدامات شروع کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے متاثرہ علاقوں میں جاری ریلیف سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے متعلقہ وفاقی وزراء اور سیکریٹریز کو موقع پر بھیجنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی انہوں نے متوقع بارشوں اور سیلابی صورتحال کے حوالے سے خطرے میں موجود آبادیوں کو پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔
گلگت بلتستان میں گزشتہ رات گلیشئیر پھٹنے سے پیدا ہونے والی جھیل کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ اس کی مسلسل نگرانی کی جائے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ این ڈی ایم اے کو ہدایت دی گئی کہ پانی کے محفوظ اخراج کے لیے پاک فوج اور ایف سی این اے کے انجینئرز کی معاونت حاصل کی جائے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو ملک کے شمالی اور جنوبی حصوں میں متوقع بارشوں، دریاؤں کی صورتحال اور گلیشئیرز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اطلاعات نے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کی ہم آہنگی کے لیے قائم کردہ سینٹرل کوآرڈینیشن کمیٹی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، انجینئر امیر مقام، عبدالعلیم خان، سردار اویس لغاری، عطا اللہ تارڑ، میاں محمد معین وٹو، مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔























