چینی وزیر داخلہ کا بھارت افغانستان اور پاکستان کا دورہ

اعتصام الحق
چین کے وزیر خارجہ وانگ ا ی نے حال ہی میں جنوبی ایشیا کے تین ممالک بھارت، افغانستان، اور پاکستان کا ایک جامع دورہ کیا، جس کا مقصد علاقائی استحکام، ترقی اور دیرپا تعاون کو فروغ دینا تھا۔اپنے دورے کے آغاز میں وہ 19 اگست کو بھارت پہنچے جہاں نئی دہلی میں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔ بات چیت میں سرحدی امور ، تجارتی معاملات اور ثقافتی تبادلوں جیسے امور زیرِ غور آئے، اور تعلقات کو تعمیری بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ۔اس ملاقات میں چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت اور چین مخالفین کے بجائے شراکت دار ہیں اور دونوں فریقوں کو مناسب طریقے سے سرحدی معاملات کو کنٹرول کرنا اور ان سے نمٹنا چاہئے اور اختلافات کو تنازعات میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔
رواں سال مئی میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد بھارتی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کے بعد چین بھارت تعلقات میں اس ملاقات کی خاصی اہیمت ہے۔خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ایس سی او کے وزرائے دفاع کے چین میں ہونے والے اجلاس میں بھارت نے مشترکہ اعلامیہ میں رخنہ ڈالا ۔تاہم آنے والے ایس سی او تیانجن سربراہ اجلاس میں نرندر مودی کی شرکت کی یقین دہانی اور حالیہ بھارت امریکہ تعلقات حالات کا رخ موڑ چکے ہیں۔اس حوالے سے بھارت کو یہ ماننا پڑے گا کہ خطے کی سیاست اور ترقی میں اسے اپنا کردار مختلف انداز میں نبھانا ہوگا اور طاقت کی سیاست اور ہٹ دھرمی کے رویہ کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو تسلہیم کرتے ہوئے خطے کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی سطح کے تعلقات کے قیام کی کوشش ازسر نو کرنا ہو گی ۔
نئی دہلی کے بعد پھر وانگ ا ی کابل پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان کے اعلیٰ حکام جیسے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیرِ خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چین نے افغانستان کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل کرنے، معدنیات کے شعبے میں تعاون، زرعی برآمدات میں آسانیاں، اور اقتصادی ترقی میں مددکی پیشکش کی۔ وانگ ای کے کابل جانے کا اہم مقصد چین-افغانستان-پاکستان سہہ فریقی وزارتی مکالمے کا چھٹا اجلاس تھا جو کابل میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدام پر زور دیا گیا۔ تینوں ممالک نے باہمی احترام و اعتماد پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے کا عہد ظاہر کیا۔افغانستان کے حوالے سے یہ نئی پیش رفت تو نہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ چین نے خطے کی صورتحال میں افغانستان کے کردار کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہمیشہ ہی افغانستا ن میں امن اور سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا ہے ۔حالیہ صورتحال بھی کئی ملاقاتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے جس میں افغانستان کو اس سوچ میں شامل کیا گیاہے کہ اس کی سر زمین کو دہشت گردی میں استعمال نہیں ہو نا چاہیئے اور پاکستان اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں امن کی خواہش اور افغانستان کے لوگوں کی فلاح و بہبود کو شامل ہونا چاہئیے ۔اس سہہ فریقی اجلاس کو پاکستان میں خاص طور پر انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے کیوں کہ اس کا تعلق براہ راست پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور سی پیک کی سرگرمیوں سے ہے ۔پاکستان نے اس حوالے سے کئی بار دنوں ممالک کی سطح پر بھی افغانستان کو یہ باور کروایا ہے کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں میں افغانستان کی سرزمین کو استعمال ہونے سے رو کا جائے ۔چین کی اس صورتحال میں شمولیت سے ایک غیر جانبدار ہمسائے کے طور پر اب تک کی کوششوں میں کافی فرق دیکھا گیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی سرزمین جب تک افغانستان کے باشندوں کے مفادات اور ان کی ترقی میں استعمال نہیں ہو گی تب تک کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لئے اسے استعمال کیا جا تا رہے گا ۔
چینی وزیر خارجہ دورے کا اختتام پاکستان میں ہوا۔پاکستان کی سرزمین پہنچنے پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیا ۔بعد ازاں دونوں وزرائے خارجہ نے چین-پاکستان وزارتی اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد کیا ۔دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ کی ملاقات پاکستانی صدر آصف علی زرداری ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ہوئی ان ملاقاتوں میں چین پاک دوستی کی جڑوں کو مزید مضبوط کرنے ،علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں باہمی تعاون جاری رکھنے اقتصادی تعاون کو فروغ دینے سی پیک کے 2.0 ورژن کو آگے بڑھانے اور پاکستان میں چینی منصوبوں اور چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے حوالے سے بات چیت ہوئی ۔تینوں ممالک کے دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا کہ اکیسویں صدی ایشیا خاص کر جنوبی ایشیا کے لیے ترقی اور تجدید کی صدی ہونی چاہیے۔
اس دورے کے دوران ہی چینی وزارت خارجہ کی ایک رسمی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں وزارت خارجہ کی ترجمان نے یہ واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات اورپاکستان بھارت تعلقات کو کسی بھی طرح پاکستان چین تعلقات سے جوڑا نہیں جا سکتا کیوں کہ دونوں ممالک کے تعلقات ہمہ جہتی ہیں اور ان میں کسی تیسرے فریق کی نہ تو کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی یہ تعلقات کسی تیسرے فریق کو ہدف بناتے ہیں ۔سو اس بیان سے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہوا جو پاکستان مخالف قوتیں پھیلا رہی تھیں کہ پاک امریکہ تعلقات اور چین بھارت تعلقات دونو ں ممالک کے لئے کسی قسم کا اشارہ ہیں اور شاید ان سے دیرینہ تعلقات پر کوئی فرق پڑنے والا ہے ۔
وانگ ا ی کے اس متعدد ممالک کے دورے نے چین کے جنوبی ایشیا میں پالیسی میں لچک، جامعیت اور مشترکہ ترقی کے عنصر کو اجاگر کیا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی، افغانستان کے اقتصادی انضمام اور پاکستان کے سات سی پیک کی توسیع ، یہ سب چین کے “پڑوسیوں کے ساتھ خیرسگالی، تعاون، اور ہم نصیب معاشرے ” کے تصور کی عملی ترجمانی ہے۔ چینی وزیر خارجہ کے اس دورے نے یہ ثابت کیا کہ چین اپنے علاقائی ہمسایوں کے ساتھ دیرپا امن، استحکام اور ترقی کا خواہاں ہے ۔

https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi