کراچی میں مون سون بارشوں سے شہر میں شدید مشکلات

کراچی میں طاقتور مون سون سسٹم کے نتیجے میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے شہر میں شدید اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ کئی اہم سڑکیں اور 5 بڑے انڈر پاسز ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے یہ بندش اب بھی برقرار ہے۔

دوسری جانب، بجلی کا بحران شدید ہو گیا ہے اور کئی علاقوں میں 36 گھنٹوں سے زائد عرصے کے باوجود بجلی بحال نہیں ہو سکی۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کر دی ہے، جس کے پیش نظر تعلیمی ادارے دوسرے روز بھی بند ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بند انڈر پاسز میں شہید ملت انڈر بائی پاس، طارق روڈ انڈر پاس، ڈرگ روڈ انڈر پاس، ناظم آباد نمبر 1 اور 2 انڈر پاس، سہراب گوٹھ انڈر پاس شامل ہیں۔ ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق باغ کورنگی روڈ، عوامی کٹ سے مزار کٹ تک ٹریفک کے لیے بند ہے کیونکہ سڑک پر پانی جمع ہے اور زمین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

کورنگی کراسنگ ندی اور کورنگی کازوے تیسرے روز بھی زیر آب ہیں۔ کورنگی کراسنگ ندی قیوم آباد جانب آنے جانے والے دونوں راستے بند ہیں، جبکہ ٹریفک کو قیوم آباد چورنگی سے بلوچ کالونی اور سی این جی کٹ سے گودام چورنگی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ کورنگی کازوے روڈ محمود آباد جانب آنے جانے والے راستے بھی بند ہیں، ٹریفک کو دیگر متبادل راستوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

شہر کی مرکزی شاہراہیں جیسے یونیورسٹی روڈ، شہید ملت روڈ، ایکسپریس وے پر بھی پانی جمع ہے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے اب تک پانی نکالنے کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے، جس سے عوام میں شدید پریشانی پائی جا رہی ہے۔

بجلی کی صورتحال بھی ابتر ہے۔ نارتھ ناظم آباد بلاک اے، گلستانِ جوہر بلاک 9، صفورا گوٹھ اسکیم 33 اور متعدد دیگر علاقوں میں 36 گھنٹے سے زائد بجلی کی بندش جاری ہے، جس سے پانی کی دستیابی بھی متاثر ہوئی اور روزمرہ کے معمولات معطل ہو گئے ہیں۔ متاثرہ علاقے شامل ہیں: سعود آباد، غازی گوٹھ، خدا کی بستی، ابراہیم حیدری، شانتی نگر، اسٹیڈیم روڈ، نانک واڑہ، یوسف گوٹھ، رامسوامی، کیماڑی اور اعظم بستی۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے فوری بجلی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بارش کے دوران ہر بار بجلی غائب ہو جاتی ہے۔ عوام نے کے الیکٹرک اور ضلعی انتظامیہ پر شدید تنقید کی ہے۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو مونس علوی نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ شام تک شہر کے 94 فیصد سے زائد علاقوں میں بجلی بحال کی جا چکی تھی۔ تقریباً 150 فیڈرز پر کام جاری ہے، تاہم بارش کی وجہ سے فیلڈ اسٹاف کو آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارش کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں دوبارہ تیز بارش، گرج چمک اور طوفانی بارشیں متوقع ہیں۔ ہوا کا کم دباؤ بھی سرگرم ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بادل دوبارہ قہر برسائیں گے، اس لیے تعلیمی ادارے دوسرے روز بھی بند رہیں گے۔