برف سے خالی ہوتے پہاڑ

ملک کے شمالی علاقے تباہ کن سیلابوں کی زد میں ہیں۔ پہاڑوں سے بہتے بپھرے ندی نالے اپنی راہ میں آنے والی ہر شے کو ساتھ بہاتے ہوئے بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا رہے ہیں۔ املاک کا نقصان تو بھر جائے گا لیکن جو زخم سینکڑوں انسانی جانوں کے ضیاع سے لگے ہیں انہیں بھرنے کو وقت کا مرہم بھی ناکافی ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے متعلق پڑھ اور سن رکھا تھا لیکن ذاتی طور پر ان کے اثرات کو دیکھنے کا کبھی موقعہ نہیں ملا تھا۔ گذشتہ ماہ میں کے ٹو بیس کیمپ ٹریک کے لئے سکردو میں تھی اور یہ میرا شمالی علاقہ جات کا پہلا سفر تھا۔ میرے ہمراہ چند ایسے بھی ساتھی تھے جو اس علاقے میں پہلے بھی آتے جاتے رہے ہیں۔ ان سب کی متفقہ رائے یہی تھی کہ ان علاقوں میں گرمی سال بہ سال بڑھ رہی ہے۔ سردیوں میں برف باری معمول سے کم ہونے لگی ہے اور دریاؤں میں پانی کی مقدار کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے گلیشئیرز کے پگھلنے کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

دوران سفر نظر آنے والے شواہد اور پیش آنے والے تجربات میرے ساتھیوں کی رائے کو تقویت دے رہے تھے۔ سکردو سے اسکولے تک کے سفر میں گرمی کا وہ عالم تھا کہ جیسے سورج سوا نیزے پر آ گیا ہو۔ سرفرنگا ڈیزرٹ کے پاس واقع پولیس چیک پوسٹ پر انٹری کے لئے رکے تو جیپ میں بیٹھنا محال ہو گیا۔ باہر نکل کر کھڑے ہوئے تو دھوپ اور گرمی کی شدت سے جلد جلنے لگی۔ ایسے میں مجھے کچھ فاصلے پر موجود درختوں کے سائے میں جائے پناہ ڈھونڈنی پڑی۔

اسکولے سے جولا کیمپ تک اٹھارہ کلو میٹر کا پیدل سفر یوں تھا جیسے تپتے صحرا میں چل رہے ہوں۔ چند روزہ پیدل سفر کے بعد جب بالتورو گلیشئیر پر پہنچے تو منظر حیران کن تھا۔ تیز رفتاری سے پگھلتے گلیشئیر سے وجود میں آنے والی جھیلوں کی تعداد بے شمار ہو چکی تھی۔ برف کے وزنی ٹکڑے گلیشئیر سے کٹ کر وقفے وقفے سے ان جھیلوں میں گر رہے تھے۔ گہری برفانی دراڑوں میں بہتے پانی کا شور ایک الگ ہی خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔ ٹنوں وزنی پتھر جو کبھی برف میں دفن رہے ہوں گے اب اس پگھلتی برف کے کمزور سہارے پر یوں ٹکے تھے کہ انہیں دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ چند ہی روز میں یہ لڑھکتے ہوئے ان جھیلوں میں جا گریں گے۔

اردو کس اور گورو کے مقامات پر بھی حالات اس سے مختلف نہیں تھے۔ ساتھیوں کے مطابق اردگرد دکھائی دینے والی پتھریلی چٹانیں چند برس قبل تک برف کی تہوں میں ملفوف تھیں لیکن برف پگھل جانے کی وجہ سے مسلسل راک سلائیڈ کا رسک بنی ہوئی ہیں۔ اس سال جی جی لا کی اترائی پر برف کا نام و نشان نہیں تھا۔ جو پچھلے سالوں میں ہوا کرتی تھی اور اس سے ٹریکرز کو اترائی میں کافی آسانی ہوتی تھی۔ برف نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے لیے جی جی لا کی اترائی پر راک سلائیڈ کا جان لیوا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا تھا۔ اس برس کئی کوہ پیماؤں اور ٹریکرز کی موت راک سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہے۔

گلیشئیرز کے تیزی سے پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ کاربن گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہے جس کے سبب عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ جب گلیشئیرز پگھلتے ہیں تو ان سے پہاڑی علاقوں میں جھیلیں بن جاتی ہیں جنہیں گلیشیائی جھیلیں کہا جاتا ہے۔ لیکن جب گلیشئیرز کے پگھلنے کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے تو پانی کے دباؤ سے یہ جھیلیں پھٹ جاتی ہیں اور آس پاس کے علاقے میں تباہی پھیلا دیتی ہیں۔ گلیشئیرز کے پگھلاؤ میں تیزی سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں تبدیلی آ گئی ہے۔ پانی کی مقدار بڑھنے اور بہاؤ تیز ہونے کی وجہ سے پل ٹوٹ جاتے ہیں۔ دریا رُخ تبدیل کر کے آبادی میں داخل ہو جاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کرتے ہیں۔

پاکستان میں کلائیمیٹ چینج کے ایک ماہر کہتے ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن وہ آب وہوا کی تبدیلی کے اثرات اور مسائل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے جن میں سے ایک گلیشئیرز کا تیزی سے پگھلنا ہے۔ کے ٹو ٹریک کے دوران میرا دل انہی خدشات میں گھرا رہا کہ بالتورو گلیشئیر سے اس خطرناک رفتار سے پگھل کر نشینی علاقوں میں جانے والا پانی کیسی تباہی مچا سکتا ہے اور اکثر ساتھیوں کے ساتھ گفتگو میں اسی موضوع پر بات ہوتی رہی۔ افسوس کہ میرے خدشات درست نکلے۔

پاکستان میں گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت کے علاوہ جنگلات کی کٹائی اور پہاڑی علاقوں میں تیزی سے آباد کاری موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ ان کے سدِباب کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر کام کرنا ہو گا۔ حکومت کو ملک کے گلیشئیرز کے پگھلنے میں اضافے سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے۔ جن میں متاثرہ کمیونٹیز کو ان سے نمٹنے کے طریقوں سے آگاہ کرنے، فوری خبردار کرنے کے سسٹمز کا قیام، آبی وسائل کے انتظامات میں اضافہ اورجنگلات کو فروغ دینا شامل ہیں۔

گلیشیئرز کے جلد پگھلنے کی وجہ سے زیریں علاقوں میں آنے والے سیلابوں میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دعا ہے کہ خدا ہمارے ان خوبصورت علاقوں کو اپنی پناہ میں رکھے کہ یہ مناظر آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہیں۔