کراچی میں بارشوں کا سلسلہ تباہی کا باعث بن گیا، مختلف حادثات میں 16 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ صوبائی دارالحکومت میں سیلابی کیفیت پر قابو نہ پایا جاسکا جس کے بعد حکومتِ سندھ نے ایک بار پھر تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق موسلا دھار بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات رونما ہوئے۔ نارتھ کراچی سیکٹر اے 53 میں ہائی اسٹار اسکول کے قریب ایک گھر میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، جب کہ گلستان جوہر بلاک 12 میں گھر کی دیوار گرنے سے 5 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
اسی طرح اورنگی ٹاؤن سیکٹر 11.5 میں خلیل مارکیٹ کے نزدیک ایک مکان کی دیوار گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوا۔ ڈیفنس فیز 6 بڑا بخاری کے قریب گلی میں کرنٹ لگنے سے ایک شخص دم توڑ گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ملیر 15 کے قریب ایک پٹرول پمپ پر آگ بھڑکنے سے جھلس کر ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ شاہراہ فیصل پوسٹ آفس کے قریب بھی کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ شاہ فیصل کالونی میں 19 سالہ مراد خان اور اس کا 10 سالہ بھائی سراج کرنٹ لگنے سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ نیو کراچی کے ایک گڑھے سے ڈوب کر جاں بحق ہونے والے شخص کی لاش برآمد ہوئی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سائٹ سپر ہائی وے اور ناردرن بائی پاس گلشن معمار کے گڑھوں سے بھی دو افراد کی لاشیں ملی ہیں، جبکہ ڈیفنس فیز 6 میں ایک اور شخص کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا۔
ان اموات اور بارشوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے جمعرات کے روز بھی بند رہیں گے۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ اقدام خراب موسم اور مزید بارشوں کی پیشگوئی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔























