چین کے شہر چینگ ڈو میں منعقدہ 12ویں عالمی گیمز 2025 اختتام پذیر ہوگئے، جہاں شاندار اختتامی تقریب اور میزبان ملک کی شاندار کارکردگی نے ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ اگلے عالمی گیمز 2029 میں جرمنی کے شہر کارل شروہے میں ہوں گے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ چین نے عالمی گیمز کی میزبانی کی، جس میں 110 سے زائد ممالک اور خطوں کے تقریباً 4 ہزار کھلاڑیوں نے 34 کھیلوں کے 256 مقابلوں میں حصہ لیا۔ تاریخ میں پہلی بار 83 ممالک کے ایتھلیٹس میڈلز جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ ایونٹس شہر کے 27 مختلف مقامات پر منعقد ہوئے۔


میزبان چین کا سب سے بڑا دستہ 489 کھلاڑیوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے 28 کھیلوں میں حصہ لیا۔ چین نے مجموعی طور پر 64 میڈلز جیتے جن میں 36 گولڈ، 17 سلور اور 11 برانز شامل ہیں اور یوں ٹاپ پوزیشن اپنے نام کی۔ جرمنی 45 میڈلز (17 گولڈ، 14 سلور، 14 برانز) کے ساتھ دوسرے اور یوکرین 44 میڈلز (16 گولڈ، 14 سلور، 14 برانز) کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ اٹلی چوتھی، فرانس پانچویں اور امریکا چھٹی پوزیشن پر رہے۔
اس بار آرمینیا، اروبا، نمیبیا، برمودا اور مونٹی نیگرو نے پہلی مرتبہ میڈلز حاصل کیے۔ کچھ کھیل جیسے ڈریگن بوٹ ریسنگ، پیرا جوجِتسو اور اسپیڈ کلائمبنگ کے نئے فارمیٹس پہلی بار شامل ہوئے جبکہ پیرا ایتھلیٹس کو بھی گیمز کا حصہ بنایا گیا۔
پاکستان کی نمائندگی اسکواش اور اسنوکر میں ہوئی لیکن عالمی اسنوکر چیمپیئن محمد آصف، انڈر 23 اسکواش چیمپیئن نور زمان اور سابق قومی چیمپیئن ناصر اقبال نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکے۔
اختتامی تقریب میں فنکاروں اور گلوکاروں نے شاندار پرفارمنس دی، ورلڈ گیمز ایسوسی ایشن نے چین کی مہمان نوازی کو سراہا جبکہ دلکش آتش بازی نے تقریب کو یادگار بنا دیا۔
























