مون سون کے طاقتور اسپیل سے خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں تباہی

ملک میں مون سون کے ایک اور شدید اسپیل کا آغاز ہو گیا ہے، جس کے دوران خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع مسلسل موسلا دھار بارشوں کی لپیٹ میں ہیں۔ صوابی کے اضلاع رزژ، لاہور اور ٹوپی میں کلاؤڈ برسٹ اور طوفانی بارش کے نتیجے میں شدید نقصان ہوا، گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور لوگ اپنی جان بچانے کے لیے چھتوں پر پہنچ گئے۔

رپورٹس کے مطابق صوابی کے داروڑی علاقے میں اچانک بادل پھٹنے سے کئی گھر ڈوب گئے۔ پولیس نے بتایا کہ تقریباً 70 سے زائد افراد کو سیلابی پانی سے محفوظ نکالا گیا۔ سٹیفہ موڑ گدون میں سیلابی ریلے میں کئی شہری پھنس گئے اور امداد کے منتظر ہیں۔ جہانگیرہ روڈ، امبار اور کنڈہ موڑ پر بھی پانی جمع ہو گیا، جبکہ تورڈھیر میں ایک نجی سکول کی دیوار منہدم ہو گئی اور وین چھت تک پانی میں ڈوب گئی۔

سوات کے شہر مینگورہ کے بالائی علاقوں اور ہری پور میں ندی نالوں میں طغیانی دیکھی گئی، جس کے باعث شاہراہ قراقرم اور دیگر اہم سڑکیں بند ہو گئیں۔ مختلف مقامات پر درخت بھی اکھڑ گئے۔ پشاور میں موسلادھار بارش کے بعد یونیورسٹی روڈ، کوہاٹ روڈ، رام داس بازار، صدر بازار اور دیگر علاقوں میں شدید پانی جمع ہو گیا۔

ادھر پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہلکی پھوار سے لے کر موسلادھار بارشوں تک کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ملتان میں سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا اور مری میں بھی گلیاں اور سڑکیں زیر آب آئیں۔ چکوال کے نشیبی علاقے، وہاڑی، ڈیرہ غازی خان اور کوہ سلیمان پر بھی پانی کے تالاب جیسے مناظر پیدا ہو گئے۔

کراچی میں صبح سویرے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کے بعد موسم قدرے بہتر ہوا۔ این ڈی ایم اے نے پنجاب، خیبرپختونخوا کے ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ممکنہ بادل پھٹنے سے خبردار کیا اور شہریوں کو دریا کے کناروں اور دیگر خطرناک مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا یہ اسپیل 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے اور اس دوران کراچی میں بھی اچھی خاصی بارش متوقع ہے۔