
سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کراچی کا افسر ظہیر حسین ٹھاکر
================
لاڑڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان سے
سندھ کی سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز میں کروڑوں روپئے کی مبینہ رشوت اور مختلف محکموں کے افسران کی ملی بھگت سے داخلوں کا انکشاف انسانی حقوق کے محافظ ادارے کا سینئیر افسر ہی شہریوں کو لوٹنے والے گروہ کا سرغنہ نکلا، زیر الزام افسر کو متعلقہ محکمےکی جانب سے شو کاز نوٹس جاری، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات شروع کر دیں، داخلا کے نام پر کئی شہریوں سے لاکھوں روپئے بھی بٹور لیے گئے تفصیلات کے مطابق قانون نافظ کرنے والے اداروں کی جانب سے شھید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ، لیاقت یونیورسٹی جامشورو اور ڈائو یونیورسٹی کراچی سمیت سندھ کی مختلف سرکاری میڈیکل یونیورسٹیز میں ایم بی بی ایم کی سیٹس کو مبینہ طور پر پچاس سے ساٹھ لاکھ روپئے میں فروخت کرنے والے گروہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کراچی سندھ سیکریٹریٹ کے دفتر میں بطور کمپلینٹ سپرنٹنڈنٹ تعینات ظہیر حسین ٹھاکر نے لاڑکانہ سمیت کے مختلف شہروں کے شہریوں سے ایم بی بی ایس کی سیٹ دلوانے کے بدلے کروڑوں روپئے بٹورے ہیں اور اس حوالے سے مختلف فیملیز کو بھیجے گئے انکے وائس نوٹس جس میں وہ مختلف یونیورسٹیز میں داخلے کروانے کا اعتراف کر رہے ہیں اور فیملیز کی جانب سے بھیجے گئے لاکھوں روپئے کہ شواہد مل چکے ہیں اور تاہم متعلقہ الزامات کے متعلق جب چیئرپرسن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن اقبال ڈیتھو سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ظہیر حسین ٹھاکر کا تعلق ضلع میرپورخاص کے گائوں جھلوری سے ہے وہ گزشتہ آٹھ سالوں سے سندھ ہیومن رائٹس کمیشن میں کانٹریکٹ پر ملازمت کر رہے ہیں، انکے متعلق سندھ حکومت کے محکمہ انسانی بہوبود کی جانب سے میڈیکل سیٹس مبینہ فروخت کرنے کے متعلق تحریری شکایت بھی موصول ہوئی ہے جس پر ظہیر حسین ٹھاکر کو شو کاز نوٹس جاری کیا جاچکا ہے حتمی فیصلا بورڈ کرے گا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ظہیر حسین ٹھاکر اپنے دوست انصر حسن اور مختلف محکموں کے افسران کی مدد سے ایک آرگنائزڈ گروہ چلا رہے ہیں جس نے ابتک شہریوں سے کروڑوں روپے بٹورے ہیں ذرائع کہ مطابق ظہیر حسین ٹھاکر مبینہ طور پر ایم ڈی کیٹ نتائج آنے کے بعد طح شدہ طالبعلموں کے نتائج کو مارکس کی درستگی کے لیے بھیجواتے تھے اور مارکس کی درستگی کے بعد طالبعلموں کا داخلا مل جاتا تھا جس کا کسی کو علم نہیں ہوتا تھا تاہم ظہیر حسین ٹھاکر کا راز تب فاش ہوا جب سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے پیپر آئوٹ ہونے پر ایم ڈی کیٹ کے نتائج کو منسوخ کر دیا گیا اور آئی بی اے کے تحت دوبارہ ٹیسٹ کروائے گئے اس دوران جب متعلقہ فیملیز نے ظہیر حسین ٹھاکر سے پیسے واپس مانگے تو انہوں نے بہانے بنانا شروع کر دیا اور اپنے قانونی دفاع کے لیے مبینہ طور پر سندھ ہیومن رائٹس کمیشن اور دیگر وکلاء سے مدد لی ظہیر حسین ٹھاکر نے اس حوالے سے پولیس کی مدد بھی لی ہے اور خود کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے قریبی ساتھیوں پر معمولی نوعیت کے چند مقدمات بھی درج کروائے ہیں، متعلقہ معاملا سامنے آنے اور تمام راز افشاں کرنے پر ظہیر حسین ٹھاکر کی جانب سے متعلقہ فیملیز کو خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں ملزمان کو جلد گرفتار کر کے مزید تفتیش کی جائے گی۔
خبرنامہ نمبر 5618/2025
خضدار 16 اگست 2025/ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن خضدار وڈیرہ محمد صالح جاموٹ نے ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر انجمن تاجران خضدار کے صدر حافظ حمیداللہ مینگل بھی موجود تھے۔ ملاقات کا مقصد شہر کے اہم مسائل پر تبادلہ خیال اور ان کے حل کے لیئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔گفتگو کے دوران شہری سہولیات کی بہتری، صفائی ستھرائی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور تاجر برادری کو درپیش مشکلات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وڈیرہ محمد صالح جاموٹ نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن شہر کی رونقیں بحال کرنے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیئے پرعزم ہے۔ انہوں نے محدود وسائل کے باوجود شہر کی ترقی کے لیئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ڈپٹی کمشنر یاسر اقبال دشتی نے میونسپل کار پوریشن کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تاجر برادری اور شہریوں کے مسائل کے حل کے لیئے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور انہیں پرامن ماحول میں کاروبار کے مواقع فراہم کرنا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔حافظ حمیداللہ مینگل نے تاجر برادری کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے ان کے حل کے لیئے تجاویز پیش کیں اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون کو سراہا۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ باہمی مشاورت سے شہری مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
خبرنامہ نمبر 5616/2025 RECAST
ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن بلوچستان مسعود احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی سطح پر بھرتیوں کے لیے ٹیسٹ 15 اگست سے 20 اگست تک شیڈول تھے، جن کا انعقاد ایگریکلچر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (اے آر آئی) سریاب میں کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے تمام انتظامات مکمل تھے۔ ٹیسٹ صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہوا اور ابتدائی دو بیچ کے ٹیسٹ کامیابی سے منعقد ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث گیٹ پر رش پیدا ہو گیا، کیونکہ ٹیسٹ سینٹر کا داخلی دروازہ مین روڈ پر واقع ہے جس کے باعث ہجوم بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کے لیے صرف تین ڈویژنز کے امیدواروں کو بلایا گیا تھا، تاہم دیگر اضلاع سے بھی بڑی تعداد میں امیدوار پہنچنے کے باعث رش میں اضافہ ہوا۔ مسعود احمد کے مطابق، رش کے باعث ٹیسٹ وقتی طور پر متاثر ہوا، لیکن فوری طور پر رانی باغ میں ٹینٹ لگا کر سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا اور اس موقع پر تین ڈویژنز کے ساتھ ساتھ وہ امیدوار بھی شامل کیے گئے جن کا ٹیسٹ گزشتہ دن مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن نے کہا کہ اب تک تقریباً 80 فیصد ٹیسٹ پُرامن اور منظم ماحول میں مکمل ہو چکے ہیں، جب کہ باقی ماندہ ٹیسٹ بھی ان شاء اللہ پُرامن طریقے سے منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اخباری اشتہار کے ذریعے واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی امیدوار کا ٹیسٹ کسی وجہ سے رہ گیا ہے تو اسے موقع فراہم کیا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام ٹیسٹ پُرامن اور منظم انداز میں جاری ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=5uur1wv4yi























