اسلام آباد کے ایف-9 پارک میں مجوزہ بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر پر ماہرین اور سماجی اداروں کی شدید مخالفت

سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید، انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان (IAP) اور IAP گرین انیشیٹو نے وفاقی دارالحکومت کے مشہور ایف-9 پارک میں بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم بنانے کے منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تعمیر نہ صرف شہر کے ماحولیاتی توازن کو بگاڑ سکتی ہے بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کو لکھے گئے خط میں ان اداروں نے کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی ترقی کی حمایت کی، مگر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ایف-9 پارک جیسے حساس اور ماحولیاتی طور پر اہم مقام پر اسٹیڈیم تعمیر کرنا موزوں نہیں۔ خط میں کہا گیا کہ “ایف-9 پارک محض ایک عوامی سبزہ زار نہیں بلکہ اسلام آباد کے لیے آکسیجن کا بڑا ذریعہ ہے، جو فضا کو صاف کرتا ہے، بارش کے پانی کے بہاؤ کو سنبھالتا ہے، حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیتا ہے، درجہ حرارت کو معتدل رکھتا ہے اور ہزاروں شہریوں کو مفت تفریح فراہم کرتا ہے۔”

ماہرین کے مطابق یہ پارک عوامی استعمال اور ماحول کے تحفظ کے لیے مخصوص ہے، اور اسے محدود رسائی والے بڑے منصوبے میں بدلنا شہریوں سے ایک نایاب اور قیمتی سبز جگہ چھیننے کے مترادف ہوگا۔ خط میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اگرچہ منصوبے کے لیے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان ایک معتبر انجینئرنگ ادارہ ہے، لیکن شہری ماحولیاتی منصوبہ بندی میں مطلوبہ مہارت کا فقدان ہے۔

اداروں نے شفاف عمل کے ذریعے ایسے آرکیٹیکٹس اور منصوبہ سازوں کی خدمات لینے پر زور دیا جو پائیدار ڈیزائن کے ماہر ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسٹیڈیم کی تعمیر سے پرانے درخت کٹ جائیں گے، ٹریفک اور آلودگی بڑھے گی اور قریبی رہائشی علاقوں میں شور اور دباؤ میں اضافہ ہوگا، جب کہ اس جگہ پبلک ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولت بھی موجود نہیں۔

IAP نے تجویز دی کہ اسٹیڈیم کو شہر کے مضافات میں تعمیر کیا جائے، جہاں انفراسٹرکچر کو منصوبے کے مطابق ڈھالا جا سکے اور شہری ماحول کو نقصان نہ پہنچے۔ اداروں نے اس حوالے سے موزوں مقامات کی نشاندہی، ماحول دوست ڈیزائن تیار کرنے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔

مشاہد حسین سید کے مطابق فاطمہ جناح پارک کے بیچ میں اسٹیڈیم تعمیر کرنا نہ صرف ماحولیاتی نظام کے لیے تباہ کن ہوگا بلکہ شہریوں، خاص طور پر بچوں، کو قیمتی تفریحی سہولت سے بھی محروم کر دے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیڈیم کی موجودگی قریبی ایئر فورس اور نیوی ہیڈکوارٹرز کے لیے بھی سنگین سکیورٹی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے یہ منصوبہ عوامی مفاد، ماحول اور قومی سلامتی تینوں کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے فی الفور ترک کیا جانا چاہیے۔