آزاد کشمیر کی وادیٔ نیلم میں آنے والے سیلابی ریلوں نے دریا پر قائم 6 رابطہ پل بہا دیے

آزاد کشمیر کی وادیٔ نیلم میں آنے والے سیلابی ریلوں نے دریا پر قائم 6 رابطہ پل بہا دیے، جب کہ مختلف حادثات میں 11 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کلاؤڈ برسٹ اور شدید سیلاب سے 400 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 100 سے زیادہ مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ رتی گلی جانے والی سڑک کئی مقامات پر بہہ جانے کے باعث بیس کیمپ میں پھنسے 800 سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

لینڈ سلائیڈنگ کے سبب کشمیر کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہِ کوہالہ اور شاہراہِ نیلم متعدد جگہوں پر بند ہیں، جبکہ سری نگر–مظفرآباد سیکشن اور لیپہ–مظفرآباد شاہراہ بھی مٹی کے تودے گرنے سے بند ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب، وزیرِاعظم شہباز شریف نے سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس طلب کیا اور ہدایت دی کہ ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں بھرپور تعاون فراہم کیا جائے اور تمام دستیاب وسائل استعمال میں لائے جائیں۔

وزیرِاعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت سے امدادی کارروائیوں میں رابطہ رکھیں اور وہاں خیمے، ادویات، خوراک اور دیگر ضروری سامان فوری طور پر پہنچایا جائے۔