خیبر پختونخوا میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے تباہی کو مزید بڑھا دیا

خیبر پختونخوا میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے تباہی کو مزید بڑھا دیا، بونیر اور مانسہرہ میں سیلابی ریلوں کے ساتھ ساتھ بجلی گرنے سے بھی متعدد جانیں ضائع ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کے روز صوبے کے ان دونوں اضلاع میں کئی مقامات پر آسمانی بجلی گرنے کے واقعات پیش آئے۔

ریسکیو 1122 مانسہرہ کو 15 اگست کی صبح اطلاع ملی کہ مانسہرہ کے نواحی علاقے بٹل، ڈھیری حلیم نیل بن میں موسلا دھار بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے کے بعد اچانک سیلابی ریلہ آیا، جس کی زد میں آ کر متعدد افراد پانی اور ملبے میں پھنس گئے۔ واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 مانسہرہ اور بٹگرام کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ مشکل حالات کے باوجود امدادی کام فوراً شروع کر دیے گئے اور اب تک 12 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جبکہ 9 مزید لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے۔

اسی دوران بونیر میں بھی بجلی گرنے اور سیلابی ریلوں نے درجنوں قیمتی جانیں لے لیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق، ضلع باجوڑ سمیت مختلف علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی پانی کے باعث 204 افراد جاں بحق اور 33 لاپتا ہیں۔ ادارے کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور فلش فلڈ نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک شدگان میں 128 مرد، 9 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 15 ہے، جن میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ بارش اور سیلاب کے نتیجے میں 35 مکانات متاثر ہوئے، جن میں 28 جزوی طور پر اور 7 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے باجوڑ اور بٹگرام ہیں، جہاں ریسکیو کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔