خیبر پختونخوا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 205 ہلاکتیں

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے شدید خطرناک اور حساس مقامات سے پانچ ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ صوبے میں بادل پھٹنے اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی ہولناک تباہی کے بعد، خراب موسم کے باوجود متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سیلابی کیفیت اور اس کے باعث پیدا ہونے والی مشکل صورتحال نے ریسکیو آپریشنز کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس موقع پر وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور نے اپنا دوسرا ہیلی کاپٹر بھی امدادی کاموں کے لیے مختص کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے باجوڑ میں صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

پی ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق، ضلع باجوڑ سمیت صوبے کے دیگر کئی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث 204 افراد جان سے گئے جبکہ 33 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلا دھار بارش اور فلش فلڈ سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ ان حادثات میں اب تک 205 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں 128 مرد، 9 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، جبکہ 33 افراد لاپتا اور 15 افراد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں 12 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

مزید برآں، بارش اور فلش فلڈ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 35 مکانات متاثر ہوئے، جن میں سے 28 کو جزوی اور 7 کو مکمل نقصان پہنچا۔ یہ حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام کے اضلاع میں پیش آئے، جبکہ باجوڑ اور بٹگرام سب سے زیادہ متاثر ہیں، جہاں ریسکیو سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔