ملک میں مون سون کی ساتویں لہر: شدید بارشوں اور سیلابی خطرات کی وارننگ

ChatGPT said:
ملک میں مون سون کی ساتویں لہر شروع ہو گئی ہے، محکمہ موسمیات نے آنے والے چند روز کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں زیادہ ہونے کی پیش گوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں اور شہریوں کو چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد، پنجاب کے مختلف اضلاع، بالائی خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلادھار بارش متوقع ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ اس وقت ملک کے شمالی اور بالائی علاقوں پر مغربی ہوائیں اثر انداز ہو رہی ہیں، جو بالائی پنجاب، خیبرپختونخوا اور شمالی بلوچستان میں نمی اور ٹھنڈک لائی ہیں۔ تاہم 17 اگست سے یہ ہوائیں زیادہ شدید ہو جائیں گی اور بارشوں کی شدت میں اضافہ کریں گی۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق 14 سے 17 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، مری، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، چکوال، اٹک، سرگودھا، ایبٹ آباد، مانسہرہ، مظفرآباد، میرپور، گلگت، سکردو اور گردونواح میں کہیں کہیں موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ بعض مقامات پر تیز ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ بارش بھی ہو سکتی ہے۔

ترجمان نے مزید خبردار کیا کہ 17 اگست سے خلیج بنگال سے مرطوب ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا، جو مغربی ہواؤں کے ساتھ مل کر ایک طاقتور موسمی نظام تشکیل دے گا۔ اس کے نتیجے میں 18 سے 21 اگست کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں، جن میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، لاہور، فیصل آباد اور ملحقہ علاقے شامل ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، کھلے مقامات پر محتاط رہیں، ندی نالوں کے قریب رہائش رکھنے والے افراد ممکنہ طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں، موسمی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں ایک سے دو روز میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے، جبکہ دریائے چناب کے مرالہ خانکی اور قادرآباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ دریاؤں کے نزدیک رہنے والے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق اس وقت دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، اور دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ تربیلا ڈیم 96 فیصد اور منگلا ڈیم 65 فیصد بھر چکے ہیں۔