عزیز سنگھور

بلوچستان کی تاریخ قربانی، جدوجہد اور بے بسی کے ایسے ابواب سے بھری ہوئی ہے جنہیں نظرانداز کرنا نہ صرف تاریخی بددیانتی ہے بلکہ موجودہ بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنانے کے مترادف بھی ہے۔ آج ایک نئی لہر نے بلوچ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ مغربی بلوچستان (ایران) اور مشرقی بلوچستان (پاکستان) کے تعلق رکھنے والے دوہری شہریت کے حامل بلوچ شہریوں کے قومی شناختی کارڈز بلاک کر دیے ہیں۔
یہ قدم بظاہر ایک انتظامی کارروائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی مخصوص طور پر بلوچ قوم کو نشانہ بنانے کا تاثر دیتی ہے۔ پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے سینکڑوں بلوچ شہریوں کے شناختی کارڈ بلاک کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ قانون امریکہ، برطانیہ یا یورپ میں مقیم دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی ریاستی سلامتی کا معاملہ ہے، یا بلوچوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور باب؟

بلوچ قوم کی موجودہ حالت کا پس منظر سمجھے بغیر اس مسئلے کی تہہ تک پہنچنا ممکن نہیں۔ مغربی اور مشرقی بلوچستان کی تقسیم کسی عوامی رضامندی یا سماجی و معاشی مفاد کی بنیاد پر نہیں ہوئی، بلکہ یہ برطانوی سامراج کی جغرافیائی سیاست کا نتیجہ تھی۔
13 نومبر 1839ء کو برطانوی افواج نے خودمختار ریاستِ بلوچستان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد، سامراجی منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ 1871ء میں “گولڈ سمڈ لائن” کھینچی گئی جس کے تحت بلوچستان کا مغربی حصہ موجودہ ایران کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر 1893ء میں “ڈیورنڈ لائن” کا قیام عمل میں آیا جس کے نتیجے میں بلوچستان کا شمالی حصہ افغانستان میں شامل کر دیا گیا۔
یہ لکیریں کاغذ پر کھینچی گئی تھیں، مگر ان کے اثرات آج بھی سرزمین اور لوگوں کے جسم و جان کو چیر رہے ہیں۔ بلوچ عوام کو نہ اس تقسیم پر رائے دینے کا موقع ملا، نہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر کوئی حل پیش کیا گیا۔
گولڈ سمڈ لائن کے قیام سے آج تک ہزاروں بلوچ صرف اس لیے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کہ وہ اپنی بقا کے لیے کھانے پینے کی اشیاء یا تیل لے کر آ رہے تھے۔ ان کی یہ تجارت صدیوں پرانی روایت کا حصہ تھی، جو خاندانوں کے درمیان لین دین اور مقامی معیشت کا بنیادی ذریعہ تھی۔
مگر اب یہی تجارت “ایرانی تیل کی اسمگلنگ” یا “چوری” کے نام سے جرم بنا دی گئی ہے۔ یہ دراصل ان سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، کیونکہ ان کے پاس معاشی بقا کا یہی ایک راستہ ہے۔ اس تجارت کو روکنے کا مطلب ان کی روزی روٹی بند کر دینا ہے، اور جب انسان کے پیٹ پر لات ماری جائے تو ردعمل کسی کے قابو میں نہیں رہتا۔
شناختی کارڈ کا بلاک ہونا صرف ایک کاغذی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ شہری کے وجود، اس کی قانونی حیثیت اور اس کے روزمرہ حقوق کی نفی ہے۔ جب ایک بلوچ شہری کو اس کی قومی شناخت سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں چھینا جاتا، بلکہ اس کی سماجی، معاشی اور سیاسی شناخت مٹا دی جاتی ہے۔
بلوچ پہلے ہی اپنی سرزمین پر بیگانگی کا شکار ہیں۔ اب ان پر یہ تاثر مزید گہرا کیا جا رہا ہے کہ ریاست انہیں اپنا شہری ماننے سے انکاری ہے۔ دوسری طرف، وہی قوانین غیر بلوچ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے معطل یا نرم ہیں۔ یہ دہرا معیار عدم اعتماد کو بڑھاتا ہے اور ایک نئی خلیج پیدا کرتا ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے، اور جب ریاست اپنے شہریوں کو انصاف اور برابری دینے سے انکار کر دے، تو بغاوت جنم لیتی ہے۔ ایک شخص جسے بھوک، محرومی اور تحقیر کا سامنا ہو، اس کے پاس دو راستے رہ جاتے ہیں: یا تو وہ مایوسی میں خودکشی کر لے، یا مزاحمت کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔
بلوچستان میں بغاوت کی تاریخ نئی نہیں۔ ماضی میں بھی غلط پالیسیوں، طاقت کے بے جا استعمال اور عوامی رائے کو نظر انداز کرنے کے نتیجے میں شورش نے جنم لیا۔ اگر موجودہ پالیسیوں کو نہ بدلا گیا تو یہ صورتحال ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتی ہے۔
بلوچستان کی سرزمین پر کھینچی گئی خونی لکیریں صرف جغرافیہ کو نہیں کاٹتیں، بلکہ دلوں اور ذہنوں کو بھی زخمی کرتی ہیں۔ شناختی کارڈ بلاک کرنے جیسی پالیسیاں اس زخم کو اور گہرا کرتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست بلوچ عوام کو محض سیکیورٹی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک زندہ قوم کے طور پر دیکھے، جس کے اپنے خواب، حقوق اور عزتِ نفس ہیں۔
اگر یہ پالیسیاں نہ بدلیں تو آنے والا وقت صرف مزید دوری، بیگانگی اور مزاحمت لے کر آئے گا، اور پھر یہ خونی لکیریں تاریخ کے اور بھی سیاہ ابواب میں بدل جائیں گی۔























