
باہر سے آتے ہی باپ بھائی بھابھی قتل
Overseas Pakistani KlLLD Dad Bro & Bhabhi باہر سے آتے ہی باپ بھائی بھابھی قتل
Overseas Pakistani KlLLD Dad Bro & Bhabhi باہر سے آتے ہی باپ بھائی بھابھی ق تل
کراچی: ایک انتہائی افسوسناک واقعے میں بیرون ملک مقیم پڑھا لکھا نوجوان نے اپنے ہی گھر والوں کے خلاف خونخواریاں کر ڈالیں۔ واقعے کے مطابق، ملزم اجاز نامی نوجوان نے اپنے ریٹائرڈ پروفیسر باپ، بھائی اور بھابھی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
واقعے کی تفصیلات
ملزم اجاز انتہائی پڑھا لکھا تھا اور اس کے والد نے اس کی تعلیم پر بھاری رقم خرچ کی تھی۔
اس نے ایم بی اے کیا اور بیرون ملک نوکری کے لیے چلا گیا، جہاں سے وہ کرونا کے دوران پاکستان واپس آیا۔
اجاز کا دعویٰ تھا کہ اس کے گھر والوں نے اس پر جادو ٹونا کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک واپس نہیں جا پا رہا۔
اس نے اپنے والد، بھائی اور بھابھی سے پیسے واپس مانگے، لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو اس نے انہیں قتل کر دیا۔
خونی درندگی
اجاز نے پہلے اپنے بھائی کو گولی ماری، پھر بھابھی کو نشانہ بنایا، جو بعد میں ہسپتال میں انتقال کر گئیں۔
جب اس کے والد نماز سے واپس آئے، تو اس نے بغیر کسی رحم کے انہیں بھی گولی مار دی۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا، جس نے ابتدائی تفتیش میں جادو ٹونے کا بہانہ پیش کیا۔
ملزم کی حرکتیں قابل مذمت
یہ واقعہ معاشرے میں اخلاقی گراوٹ اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ ملزم کا یہ فعل نہ صرف اسلام بلکہ انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے۔
تفتیش جاری ہے، مزید اپ ڈیٹس کا انتظار رہے۔
======================
کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول میں یومِ آزادی کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد
طلبا و طالبات کی جانب سے مختلف اسٹالز لگا کر اپنی صلاحیتوں اور ملک سے محبت کا اظہار
کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول میں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک رنگا رنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبا و طالبات نے مختلف اسٹالز لگا کر اپنی صلاحیتوں اور ملک سے محبت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے مختلف اسٹالز کا تفصیلی دورہ کیا اور طلبا و طالبات کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اسٹالز ہمارے نوجوانوں کی حب الوطنی اور تخلیقی صلاحیتوں کی زندہ مثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے اور ایسے مواقع ان کی صلاحیتوں کو ابھرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔تقریب میں شریک طلبا و طالبات نے اپنے اسٹالز کے ذریعے پاکستان کی تاریخ، ثقافت، اور ترقیاتی منصوبوں کو اجاگر کیا، جس سے شرکاء میں قومی جذبہ مزید فروغ پایا۔
سیاسی نعروں کا دور ختم ہو چکا ہے، حقیقی طاقت معیشت کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمودعراقی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا بھر میں پالیسی سازوں کو یہ باور کرایا کہ تجارت اور اقتصادی اوزارجنگ زدہ خطوں میں بھی امن قائم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ڈاکٹرخالدمحمودعراقی
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے دنیا بھر میں پالیسی سازوں کو یہ باور کرایا کہ تجارت اور اقتصادی اوزار حتیٰ کہ جنگ زدہ خطوں میں بھی امن قائم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران انہوں نے تجارتی ذرائع استعمال کر کے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ تاہم بھارت اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا اور ان کا مؤقف مختلف ہے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج (بریگزٹ) تھا، جس نے یورپ بھر میں ایک شدید بحث چھیڑ دی کہ یہ فیصلہ عالمی معیشت کو کس طرح متاثر کرے گا۔ عالمی سطح پر کئی چیلنجز موجود ہیں، اور خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو بہت سے اقتصادی مسائل کا سامنا ہے۔ اگر تجارتی محصولات میں اضافہ ہوتا ہے یا تجارت میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے، تو اس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر زیادہ پڑیں گے بہ نسبت ترقی یافتہ اقوام کے۔ کیونکہ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے منگل کے روز اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹرجامعہ کراچی کی نئی پالیسی بریف سیریز اور اکنامک آؤٹ لک سیریز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹرجامعہ کراچی میں کیا گیا۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمیں موجودہ عالمی حقیقتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے، اور ان حقیقتوں کے تناظر میں ہی اپنی اقتصادی پالیسیوں کو ترتیب دینا چاہیے۔یہ ہمیشہ ہمارے لیے باعثِ مسرت رہا ہے کہ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر اقتصادی پہلوؤں پر تحقیق کرتے ہیں۔
ڈاکٹر خالدعراقی کہا کہ سیاسی نعروں کا دور ختم ہو چکا ہے، حقیقی طاقت معیشت کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔پاکستان میں سیاسی نعروں نے اب تک عوام کو کچھ نہیں دیااور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مستقبل میں بھی صرف نعروں سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ہمیں حقیقت پسند بن کر اپنی اصل طاقت کو پہچاننا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہماری ترقی کا دار و مدار ہمارے وسائل، افرادی قوت اور اقتصادی پالیسیوں پر ہے، نہ کہ کھوکھلے دعووں پر، اگر ہم اپنی طاقت کو صحیح طریقے سے استعمال کریں تو نہ صرف معیشت کو سنبھالا دیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو بھی ترقی کی جانب گامزن کیا جاسکتاہے۔
ڈائریکٹر اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر نورین مجاہد نے کہا کہ نئی پالیسی بریف سیریز اور اکنامک آؤٹ لک سیریز کے اجراء کا مقصد پالیسی سازوں، محققین، ماہرینِ تعلیم، کاروباری رہنماؤں اور عام عوام کو بروقت اور قابلِ عمل معلومات فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کو اعلیٰ معیار کی تحقیق فراہم کرنے کی ایک طویل روایت حاصل ہے۔ یہ نئی کوششیں اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے تحقیق کو زیادہ مؤثر اور نتائج خیز بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہیں۔
نیشنل بینک آف پاکستان کے نمائندے اختر محمود ندیم نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کے پاکستان کی اقتصادی سوچ میں طویل المدتی کردار کو سراہتے کہا کہ ساختی اقتصادی چیلنجز کے حل کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے مابین تعاون کو مضبوط کرنا ضروری ہے اورانہوں نے نیشنل بینک آف پاکستان کی جانب سے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹرکے مستقبل کے منصوبوں کی حمایت کا عہد کیا۔ انہوں نے کہا، ”تحقیق اور عملی دنیا کے درمیان پل بنانا ضروری ہے، اور ہم یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہمارے مالی اور صنعتی شعبے عالمی معیار کی تحقیق سے مستفید ہوں گے۔
جامعہ کراچی میں طالبات اور خواتین پر مشتمل معرکہ حق موٹر سائیکل ریلی کا انعقاد
ریلی کا مقصد افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو معاشرتی اور سفری حوالے سے بااختیار بنانا ہے۔ڈاکٹرخالد عراقی
جامعہ کراچی میں منگل کے روز ڈائریکٹوریٹ آف فزیکل ایجوکیشن کے زیر اہتمام اور بنت آہن وخود محافظ کے اشتراک سے طالبات اور خواتین پر مشتمل معرکہ حق موٹر سائیکل ریلی کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ریلی میں 100 سے زائد موٹرسائیکل سوارخواتین وطالبات نے حصہ لیا۔ریلی جمنازیم سے شروع ہوکر نیشنل بینک آف پاکستان،شعبہ ریاضی،کلیہ علوم،شعبہ طبیعیات اور کلیہ فارمیسی جامعہ کراچی سے ہوتی ہوئی واپس جمنازیم جامعہ کراچی پر اختتام پذیرہوئی۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی عزائم کا پوری پاکستانی قوم نے بھرپور جواب دیا ہے اور پاک فوج نے اپنی بہادری اور جرات کی نئی مثال قائم کی ہے۔ ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمارے بہادر افواج نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ پوری قوم افواج پاکستان کے شجاعت اور قربانیوں پر فخر کرتی ہے اور ہر پاکستانی کا جذبہ حب الوطنی مزید مضبوط ہوا ہے۔ہم پاکستانی عوام اپنے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے مزید کہا کہ آج کی اس تقریب کا بنیادی مقصد افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین کو معاشرتی اور سفری حوالے سے بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ کے مسائل کا مقابلہ کر سکیں اور بائیک چلانے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس کے علاوہ، یہ ریلی خواتین کو اپنی سفری ضروریات کے لیے خود مختار بنانے اور انہیں شہر کراچی میں بہتر ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے متحرک کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔جامعہ کراچی کی انتظامیہ خاص طور پر خواتین طالبات کو موٹرسائیکل چلانے کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ وہ اپنی سفری مشکلات کو خود حل کر سکیں اور معاشرے میں اپنی پہچان بنا سکیں۔
ڈاکٹر خالدعراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی میں ہرسال جشن آزادی کی مرکزی تقریب میں ایک قومی نغمہ جاری کیاجاتاہے اور اس سال بھی14 اگست کو جشن آزادی کی مرکزی تقریب میں قومی نغمہ جاری کیاجائے گا۔























