پنجاب میں آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بھارت اگلے دو دنوں میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑ سکتا ہے، جس کے باعث صوبے کے کچھ علاقوں میں سیلاب کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ملک میں 26 جون سے مون سون کی بارشیں وقفے وقفے سے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں تمام بڑے اور چھوٹے ڈیمز میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور دریاؤں میں بھی پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے اگلے دو دنوں میں دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کا امکان ہے۔ بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں بھاکڑا ڈیم 61 فیصد، پونگ ڈیم 76 فیصد اور تھین ڈیم 64 فیصد تک بھر چکے ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادر آباد علاقوں میں درمیانے سے شدید سطح کے سیلاب کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔ پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں بدھ کو مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کی وجہ سے دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ متعلقہ محکمے 24 گھنٹے دریاؤں اور ڈیمز کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عوام کو کہا گیا ہے کہ وہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی صورت حال میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔ ساتھ ہی لوگوں کو دریاؤں، نہروں، ندی نالوں اور تالابوں میں نہانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔ سیلاب کے دوران دریاؤں کے آس پاس پکنک یا غیر ضروری کراسنگ سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
قومی ادارہ برائے آفات سے نمٹنے (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق، 26 جون سے اب تک بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ملک میں کم از کم 305 افراد جان بحق ہو چکے ہیں جن میں 142 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے دو بڑے ڈیموں تربیلا اور منگل میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جہاں تربیلا ڈیم 96 فیصد اور منگل ڈیم 64 فیصد بھر چکے ہیں۔























