
پی ٹی وی کی مشہور اداکارہ – نوکرانی بن گئی | جذباتی کہانی
پی ٹی وی کی مشہور اداکارہ – نوکرانی بن گئی | جذباتی کہانی
PTV Ki Famous Actress Logo Ke Gharon Main Nokrani Ban Gai | Emotional Story | Neo Digital
“پی ٹی وی کی مشہور اداکارہ نوکرانی بن گئیں | درد بھری کہانی
یہ خبر ایک سابقہ مشہور اداکارہ کی المناک کہانی بیان کرتی ہے جو کبھی ٹی وی اسکرین پر چھائی رہی تھیں، لیکن اب غربت اور تنہائی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی کہانی دیکھ کر ہر کسی کے دل میں درد اُٹھتا ہے۔
اداکارہ نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کی پرورش اور تعلیم کے لیے دن رات محنت کر رہی ہیں، لیکن معاشرے کی بے حسی اور سابقہ ساتھیوں کی عدم توجہی نے ان کی مشکلات کو اور بڑھا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں کام کرنے والے بہت سے لوگ ان کی مدد کر سکتے تھے، لیکن کسی نے بھی ان کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اپنے بیٹے کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں اور امید کرتی ہیں کہ ان کی کہانی سن کر کوئی ان کی مدد کرے گا۔
اس واقعے نے سماجی میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں صارفین اداکارہ کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے پاکستانی انڈسٹری کے اندر کام کرنے والی خواتین کے ساتھ ہونے والے ناانصافیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ کچھ صارفین نے تو یہاں تک کہا کہ حکومت اور شوبز کے بڑے ناموں کو ایسے معاملات پر توجہ دینی چاہیے اور ان خواتین کی مدد کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں جو کسی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ کہانی صرف ایک اداکارہ کی نہیں، بلکہ ان تمام خواتین کی نمائندگی کرتی ہے جو کسی بھی شعبے میں کام کرتے ہوئے معاشرتی اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں کی مدد کرنی چاہیے، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔ امید ہے کہ اس خبر کے بعد اداکارہ کو ضروری مدد ملے گی اور وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ایک بہتر زندگی گزار سکیں گی۔
==========================
ادب اور ثقافت کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بقا کے ضامن ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا لطیف ادبی کانفرنس سے خطاب
مٹیاری، 10 اگست 2025
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اتوار کو ایک روزہ دورے پر سندھ کے ضلع مٹیاری پہنچے جہاں انہوں نے صوفی شاعر اور عظیم روحانی شخصیت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس کی تقریبات میں شرکت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے درگاہ پر حاضری دی، مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر سندھ کے صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ بلوچستان کے صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی، صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی اور سیاسی رہنماء میر ساجد دشتی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے بعد ازاں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ کے ہمراہ ایچ ٹی سورلی ہال میں منعقدہ لطیف ادبی کانفرنس میں شریک ہوئے کانفرنس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وزیر ثقافت سندھ نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی زندگی، شاعری اور افکار پر لکھی گئی مختلف کتب کی رونمائی کی اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا پیغام محبت، امن، بھائی چارے اور رواداری پر مبنی ہے جو آج کے دور میں ہماری معاشرتی اور قومی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری عوامی شعور، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا سرچشمہ ہے، اور ان کے افکار نسل در نسل رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب اور ثقافت کسی بھی معاشرے کی ترقی اور بقا کے ضامن ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے ثقافتی اور ادبی میلوں سے نہ صرف بھائی چارہ فروغ پاتا ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی تقویت ملتی ہے تقریب میں آمد پر سندھ کے وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ اور دیگر مقررین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے بین الصوبائی ہم آہنگی کے لئے اہم پیش رفت قرار دیا
===========================
خبرنامہ نمبر 5446/2025
کوئٹہ 09 اگست۔ بلوچستان کے سینئر صوبائی وزیر و پیپلز پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے رکن و پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کہا ہے کوئٹہ شہر بلوچستان کا دارالحکومت حکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ہم سب کا مشترکہ گھر بھی ہے لہذا کوئٹہ شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مختلف مسائل میں سے ایک اہم مسلئہ قلت آب کا بھی ہے لہذا اس ضمن میں گزشتہ روز ایکنک کے ویڈیو لنک اجلاس میں انہوں نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار و دیگر شرکاء کو اس اہم مسئلے کی سنگینی اور اس حوالے سے بلوچستان واٹر سیکورٹی اینڈ پروڈکٹیویٹی ایمپروومنٹ پروجیکٹ Improvement of Quetta Watwer Supply کے تحت کوئٹہ شہر کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے مجوزہ منصوبے کی اہمیت و افادیت کے بارے میں تفصیلات کیا، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ اجلاس کے دوران انہوں نے شرکاء کو مکمل بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کوئٹہ شہر کی آبادی 31 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جہاں قلت آب کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے کوئٹہ میں مجموعی طور پر پانی کی طلب فی فرد 20 گیلن کے حساب سے پوری آبادی کیلئے 62 ملین گیلن یومیہ بنتا ہے جبکہ واسا کوئٹہ شہر کے تقریباً 60 فیصد حصے کو پانی فراہم کر رہا ہے جو بمشکل 30 ملین گیلن کا حساب فی دن ہے کوئئہ کے شہری اپنی پانی کی ضروریات پرائیویٹ ٹیوب ویلز و دیگر ذرائع سے بھی پوری کر رہے ہیں، صوبائی وزیر نے اس مسلئے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر کے 90 فیصد ٹیوب ویلز جوکہ ” الیوئیل آبی ذخیروں” میں واقع ہیں وہ فعال ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر کی پانی نکالنے کی صلاحیت بہت کم ہوکر تقریباً 35 گیلن فی منٹ ہے، انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر کے علاقوں میں واقع ٹیوب ویلز عموماً مٹی بھرنے جانے کے مسئلہ کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی باقاعدہ صفائی و مرمت کی ضرورت ہوتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کہ شہر میں بجلی کی مسلسل بندش نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے لہذا کوئٹہ شہر میں پانی کی قلت اور اس سے منسلک مسائل کا جامع حل تلاش کرنے کے لیے( بلوچستان انٹیگریٹڈ واٹر ریسورس مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ) کے تحت ماسٹر پلان اسٹڈی کی گئی ہے اس مقصد کے لیے کوئٹہ کے واٹر سپلائی سسٹم کی بہتری کے لیے “فیزیبیلٹی سٹڈی” کے لیے کنسلٹنسی سروسز حاصل کی گئی ہیں، میر محمد صادق عمرانی نے کہا کہ اس منصوبے کی منظوری سے کوئٹہ شہر کو مزید 20 ملین گیلن پانی کی فراہمی سے کوئٹہ کے شہریوں کا ایک اہم مسئلہ حل ہو جائے گا، ایکنک کے اجلاس کے حوالے سے میر محمد صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ جس جاندار طریقے سے انہوں نے اپنا موقف پیش کیا اس پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار و دیگر نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ کوئٹہ شہر کو فراہمی آب کا یہ منصوبہ مقررہ وقت میں تکمیل کو پہنچ جائے تاکہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی و دیگر کاموں کیلئے پانی وافر مقدار میں موجود ہوسکے۔
============================
کوئٹہ، 09 اگست
مرحوم پروفیسر عاشق حسین کی اہلیہ اور سماء ٹی وی کے رپورٹر نورالعارفین، زین العابدین، حارث رسول اور حنظلہ رسول کی والدہ ماجدہ گزشتہ روز قضائے الٰہی سے وفات پا گئیں مرحومہ، تجمل حسین، عبد الرحمان، حبیب الرحمان، خادم حسین، شوکت علی، لیاقت علی اور مرزا رشید بیگ کی بھابھی، فیضان مرزا اور مبشر ملک کی ساس، جبکہ فقیر حسین وردگ، فدا حسین وردگ، مشتاق حسین وردگ، اشفاق حسین وردگ، الطاف حسین وردگ اور اعجاز حسین وردگ کی ہمشیرہ تھیں۔ وہ سردار خادم حسین وردگ کی پھپھو اور حامد لطیف رانا کی خالہ بھی تھیں مرحومہ کی ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی مرکزی عیدگاہ مسجد، طوغی روڈ میں جاری ہے۔























