موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریاں

موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریاں
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق کرہ ارض پر گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈز دم توڑ چکے ہیں۔ جنگلات میں بھڑکتی آگ اور آلودہ ہوائیں اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

ہلاکتوں کے ہولناک اعدادوشمار
رپورٹ کے مطابق سن 2000 سے 2019 تک کے عرصے میں انتہائی درجہ حرارت کی وجہ سے ہر سال تقریباً 4 لاکھ 89 ہزار افراد لقمہ اجل بنے، جن میں سے 45 فیصد اموات ایشیائی ممالک میں رجسٹر ہوئیں۔

شہری علاقوں میں خطرناک صورتحال
شہروں میں گرمی کے مضر اثرات دیہاتی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن ہیں۔ شہری مراکز میں بڑھتی ہوئی آبادی اور تعمیراتی سرگرمیاں اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا رہی ہیں۔

ریکارڈ توڑ گرمیاں
WMO کے مطابق گزشتہ ماہ جولائی 2023 اور 2024 کے بعد تیسرا گرم ترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔ یورپی ممالک خاص طور پر سویڈن اور فن لینڈ میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔

ایشیا میں گرمی کی مار
ہمالیائی خطے سے لے کر جاپان تک گرمی کی شدت نے تمام اوسط درجہ حرارت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں 5 اگست تک درجہ حرارت 42 ڈگری سے اوپر ریکارڈ کیا گیا۔

آتشزدگی کے واقعات
کینیڈا میں جنگلات کی آگ نے 66 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کو نگل لیا۔ دھویں نے نہ صرف کینیڈا بلکہ امریکہ کی شمالی ریاستوں اور یورپ تک کے ماحول کو آلودہ کر دیا۔

انتباہی نظام کی ضرورت
WMO کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں گرمی سے ہونے والی ہر موت کو روکا جا سکتا ہے۔ تنظیم 57 ممالک میں انتباہی نظام بہتر بنا کر سالانہ ایک لاکھ جانیں بچانے کا ہدف رکھتی ہے۔

عالمی کوششیں
WMO اقوام متحدہ کے ان دس اداروں میں شامل ہے جو پیرس معاہدے کے تحت درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔