“پاکستان کے مصالحہ جات کے بڑے نام — شان، نیشنل اور مہران — دنیا بھر میں اپنی چھاپ چھوڑ رہے ہیں!”

پاکستان کی معروف مصالحہ کمپنیاں — شان فوڈز، نیشنل فوڈز اور مہران فوڈز — نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں اپنے ذائقوں کی دھاک بٹھا رہی ہیں۔ یہ برانڈز پاکستانی کھانوں کی اصل روح کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہے ہیں۔

🌍 عالمی مقبولیت:

شان فوڈز کے مصالحے 60 سے زائد ممالک میں برآمد ہوتے ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ اور UAE شامل ہیں۔

نیشنل فوڈز کی مصنوعات 40 سے زیادہ ممالک میں دستیاب ہیں، جبکہ UAE میں اس کی ذیلی کمپنی بھی موجود ہے۔

مہران فوڈز نے 40 سال سے زائد عرصے تک سب سے زیادہ برآمدات کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

💰 معاشی ترقی میں کردار:

ان کمپنیوں نے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ہے، جہاں نیشنل فوڈز کا سالانہ ریونیو 26 ارب روپے سے زیادہ ہے۔

شان نے مصالحہ جات کے شعبے میں 41% مارکیٹ شیئر حاصل کیا ہوا ہے، جبکہ مہران مسلسل سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

🍛 جدت اور توسیع:
تیار مصالحے، ساسز اور منجمد غذائیں جیسی نئی مصنوعات کے ذریعے یہ کمپنیاں جدید صارفین کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ ان کی کامیابی پاکستان کو غذائی برآمدات کا ایک اہم مرکز بنا رہی ہے۔

پاکستان کی یہ مصالحہ کمپنیاں واقعی ملک کا نام روشن کر رہی ہیں!

جدت اور معیار کی بلندیوں پر:
شان، نیشنل اور مہران فوڈز نے نہ صرف روایتی مصالحوں کو برقرار رکھا ہے بلکہ جدت طرازی سے بھی کام لیا ہے۔ شان فوڈز نے حال ہی میں تیار شدہ ککنگ ساسز متعارف کروائے ہیں، جبکہ نیشنل فوڈز نے 250 سے زائد مصنوعات کی لائن کے ساتھ اپنی رینج وسیع کی ہے۔ مہران فوڈز نے فروزن فوڈز اور جدید پیکنگ کے ذریعے نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ یہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق کو بروئے کار لا کر مصالحہ جات کے معیار کو نئی بلندیوں پر لے جا رہی ہیں۔

روزگار اور معاشرتی ترقی:
ان کمپنیوں کی کامیابی نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنایا ہے بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار بھی فراہم کیا ہے۔ شان، نیشنل اور مہران فوڈز کے کارخانے ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، جہاں مقامی لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ کمپنیاں کسانوں سے براہ راست مصالحے خریدتی ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں معاشی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی زرعی اور صنعتی ترقی کا ایک اہم باب ہے۔

مستقبل کے روشن امکانات:
پاکستانی مصالحہ جات کی عالمی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور یہ تینوں کمپنیاں 2025 اور اس کے بعد کے لیے اپنی برآمدات کو دوگنا کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔ خاص طور پر یورپ اور مشرق وسطیٰ میں پاکستانی مصالحوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر کام کریں، تو پاکستان دنیا کا سب سے بڑا مصالحہ برآمد کنندہ بن سکتا ہے۔ شان، نیشنل اور مہران فوڈز کی کامیابی پورے ملک کے لیے ایک مثالی کہانی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی مصنوعات عالمی معیار کی حامل ہیں!

معیار، صحت اور صارفین کا اعتماد:
شان، نیشنل اور مہران فوڈز کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے معیار اور صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دی ہے۔ یہ کمپنیاں بین الاقوامی معیارات کے مطابق مصالحے تیار کرتی ہیں، جس میں کیمیائی ملاوٹ سے پاک، خالص اجزاء کا استعمال شامل ہے۔ شان فوڈز کی طرح، نیشنل اور مہران نے بھی ISO اور HACCP جیسے عالمی معیارات کے سرٹیفیکیشن حاصل کیے ہوئے ہیں، جو ان کی مصنوعات کی صحت اور حفاظت کی ضمانت دیتے ہیں۔ صارفین کا ان برانڈز پر اعتماد اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مصالحے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی گھر گھر استعمال ہوتے ہیں۔

پائیدار ترقی اور سماجی ذمہ داری:
ان کمپنیوں نے نہ صرف کاروباری کامیابی حاصل کی ہے بلکہ پائیدار ترقی اور سماجی ذمہ داری کے اصولوں پر بھی عمل کیا ہے۔ شان فوڈز نے کسانوں کو جدید زرعی تربیت فراہم کر کے ان کی آمدنی بڑھانے میں مدد کی ہے، جبکہ نیشنل فوڈز نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ مہران فوڈز نے ماحول دوست پیکجنگ اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جو ماحولیات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کمپنیاں نہ صرف منافع کمانے پر توجہ دیتی ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہی ہیں، جو ان کی کامیابی کا ایک اہم پہلو ہے۔

بین الاقوامی نمائشوں اور فوڈ فیسٹیولز میں شرکت
شان، نیشنل اور مہران فوڈز نے پاکستانی مصالحوں کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کے لیے دنیا بھر کے اہم فوڈ ایکسپوز اور کھانے کے میلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری
ان تینوں کمپنیوں نے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ (R&D) پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے تاکہ مصنوعات کے معیار اور ذائقے کو بہتر بنایا جا سکے۔ شان فوڈز نے حیدرآباد اور کراچی میں جدید R&D لیبارٹریز قائم کی ہیں، جہاں ماہرین نئے مصالحہ مرکبات اور صحت بخش اجزاء پر تحقیق کرتے ہیں۔ نیشنل فوڈز نے یورپی اور ایشیائی ماہرین کے ساتھ شراکت کر کے اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی ذائقوں کے مطابق ڈھالا ہے۔ مہران فوڈز نے فروزن فوڈز اور ریڈی ٹو کک مصنوعات کی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ دی ہے، جس کے لیے انہوں نے سالانہ کروڑوں روپے کی خطیر رقم مختص کی ہوئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف نئی مصنوعات کی تخلیق میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ برآمدات کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (CSR) کی سرگرمیاں
شان، نیشنل اور مہران فوڈز نے سماجی بہبود کے منصوبوں پر کثیر رقم خرچ کر کے اپنی ذمہ داریوں کا ثبوت دیا ہے۔ شان فوڈز نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نمایاں کام کیا ہے، جس میں اسکولز کی تعمیر اور مفت طبی کیمپس شامل ہیں۔ نیشنل فوڈز نے “ہنر مند پاکستان” کے تحت نوجوانوں کو مفت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی ہے، جبکہ مہران فوڈز نے قحط زدہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی اور پانی کے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ یہ کمپنیاں قدرتی آفات کے دوران بھی ریلیف ایکٹیویٹیز میں پیش پیش رہتی ہیں، جس سے ان کی عوامی خدمت کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔

تشہیری طاقت اور میڈیا مہمات
ان تینوں کمپنیوں نے میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی مضبوط موجودگی کے ذریعے اپنے برانڈز کو نمایاں کیا ہے۔ شان فوڈز کی “ہر پاکستانی کا پسندیدہ” اور نیشنل فوڈز کی “ذائقہ زندگی کا” جیسی مہمات نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ مہران فوڈز نے یوٹیوب اور انسٹاگرام پر باورچیوں کے ساتھ کولابوریشنز کر کے نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ ان کمپنیوں نے کرکٹ ٹیموں اور مشہور شخصیات کے ساتھ اسپانسرشپ ڈیلز بھی کی ہیں، جس سے ان کی مارکیٹنگ کی طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔

میڈیا سے تعلقات اور پرکشش اشتہاری مہمات
شان، نیشنل اور مہران فوڈز نے میڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دی ہے، جس کی وجہ سے ان کے بارے میں مثبت کوریج ہوتی ہے۔ یہ کمپنیاں کھانے کے شوز، فوڈ بلاگرز اور باورچیوں کے ساتھ مل کر اپنے مصالحوں کی تشہیر کرتی ہیں۔ نیشنل فوڈز نے “ماسٹر شیف پاکستان” جیسے پروگراموں کے اسپانسر بن کر اپنی مصنوعات کو فروغ دیا، جبکہ مہران فوڈز نے عرب ممالک میں عربی زبان میں اشتہارات چلا کر اپنی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کو وسعت دی۔ ان کی اشتہاری مہمات نہ صرف پرکشش اور دلچسپ ہوتی ہیں بلکہ کروڑوں روپے کے بجٹ پر مشتمل ہوتی ہیں، جو ان کی مارکیٹنگ کی طاقت کو ظاہر کرتی ہیں۔