
کلر کہار ٹنل پروجیکٹ | M-2 موٹروے کے لیے گیم چینجر
کلر کہار ٹنل پروجیکٹ | M-2 موٹروے کے لیے گیم چینجر
Kalar Kahar Tunnel Project | Game-Changer for M-2 Motorway
کلر کہار سرنگ منصوبہ: ایم 2 موٹروے کے لیے ایک انقلابی تبدیلی
خبر:
حکومت پاکستان نے ایم 2 موٹروے پر واقع کلر کہار کے خطرناک اور پیچیدہ راستے کو محفوظ بنانے کے لیے 10 کلومیٹر طویل سرنگ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مسافروں کے لیے سفر کو محفوظ اور تیز تر بنائے گا بلکہ وقت اور ایندھن کے اخراجات میں بھی 30 فیصد تک کمی لائے گا۔
کلر کہار کا یہ علاقہ نمک کی چٹانوں اور کھردری زمین کی وجہ سے مشہور ہے، جہاں تیز موڑ اور حادثات کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ نئی سرنگ کے ذریعے اس خطرناک حصے کو بائی پاس کیا جائے گا، جس سے ٹرکوں اور دیگر بڑی گاڑیوں کے لیے سفر آسان ہو جائے گا۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2024 میں مکمل ہو چکا ہے، جس میں جیو ٹیکنیکل رپورٹس اور تحقیقات شامل تھیں۔ دوسرے مرحلے میں عالمی انجینئرنگ فرمز کو ٹینڈر دیے گئے ہیں، جبکہ تیسرے مرحلے میں چینی کمپنیز جیسے چائنا ریلوے شامل کی گئی ہیں۔ سرنگ کی تعمیر میں تقریباً پانچ سال لگیں گے، جس کے بعد اندرونی ساخت، موٹروے کنکشن اور حتمی ٹیسٹنگ کی جائے گی۔
اس منصوبے کے فوائد میں مقامی روزگار میں اضافہ، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، اور علاقے کی ترقی شامل ہیں۔ تاہم، فنڈنگ، افراط زر، اور سیکیورٹی چیلنجز جیسے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جلد ہی ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی جائے گی اور تعمیراتی کام کا آغاز ہو جائے گا۔
============================
خبرنامہ نمبر5434/2025
کوئٹہ: 8 اگست ۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اشیاء خوردونوش میں جعل سازی اور صارفین کی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے کوئٹہ میں معروف کمپنی National کے جعلی و ناقص مصالحوں کی بڑی کھیپ پکڑ لی۔ کارروائی نیو اڈا اور سیٹلائٹ ٹاون کے دو ہول سیل ٹریڈرز کے خلاف خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی، جہاں سے ہزاروں پیکٹ جعلی مصالحوں کے ضبط کیے گئے۔ڈائریکٹر آپریشنز محمد ریاض ناصر کے مطابق یہ جعلی مصالحہ جات دیگر صوبوں سے غیر قانونی طور پر کوئٹہ منتقل کرکے صوبے کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں سپلائی کیے جا رہے تھے۔ ضبط شدہ پیکٹس میں پیکنگ، لیبلنگ اور برانڈنگ اس انداز میں کی گئی تھی کہ عام صارف کے لیے انہیں اصلی اور جعلی میں فرق کرنا انتہائی مشکل تھا۔قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے پر دونوں ٹریڈرز فوری طور پر سیل کر دیے گئے۔ مزید تحقیقات کے دوران اس نیٹ ورک کے مرکزی سپلائرز اور مین ڈسٹریبیوٹرز تک پہنچنے کے لیے کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی وقار خورشید عالم کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ جعلی و ناقص اشیاء خورونوش کا کاروبار کرنے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ صوبے میں معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اشیاءخوردونوش کے کاروبار میں جعل سازی عوام کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے جس کے پیشِ نظر اتھارٹی عوام کو ملاوٹ سے پاک اور محفوظ خوراک فراہم کرنے کے لیے ہر سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔ جلد ہی جعلی مصالحے بنانے والے کارخانوں اور مرکزی ڈسٹریبیوٹرز کا سراغ لگا کر ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اشیاء خوردونوش خریدتے وقت پیکنگ، لیبلنگ اور ایکسپائری ڈیٹ ضرور چیک کریں اور کسی بھی مشکوک پروڈکٹ یا سپلائر کی اطلاع فوراً اتھارٹی کے ہیلپ لائن نمبر- 4664507-0333 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5435/2025
گوادر8اگست ۔ کمشنر مکران قادر بخش پرکانی نے ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمٰن کے ہمراہ گوادر میں تمام لائن ڈیپارٹمنٹس اور دیگر محکموں کے افسران کے ساتھ ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد ضلع گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں، زیر التوا اسکیموں، ملتوی شدہ منصوبوں اور محکمانہ مسائل کا جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں کمشنر مکران نے تمام محکموں کے سربراہان سے ان کے دائرہ کار میں درپیش چیلنجز اور جاری منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور، اسسٹنٹ کمشنر گوادر سعد کلیم ظفر سمیت تمام لائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران شریک تھے۔ضلع میں جاری پانی کے بحران پر ایکسین پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) مومن بلوچ نے مفصل بریفنگ دی۔ انہوں نے کمشنر کو گوادر میں پانی کے موجودہ ذرائع، تقسیم، ذخیرہ اندوزی، اور ترسیلی نظام سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ کمشنر مکران نے ہدایت دی کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور اس ضمن میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس میں جیوانی اور سنٹ سر سمیت دیگر علاقوں کو پانی فراہم کرنے والے موجودہ ذرائع میں ویلیو ایڈیشن اور مزید بورنگ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں محکمہ ایریگیشن، صحت، تعلیم، میونسپل کارپوریشن گوادر، ماحولیات، جیڈا، بی سی ڈی اے، لوکل گورنمنٹ، زراعت، لائیوسٹاک، عمانی گرانٹ اسپتال پسنی، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال گوادر، ووکیشنل ٹریننگ سینٹر اور سمال انڈسٹری کے نمائندوں نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، مسائل اور ترقیاتی پیش رفت پر بریفنگ دی۔گوادر میں بجلی کے بحران کے حوالے سے ایکسین کیسکو آپریشن اور ایکسین کیسکو گریڈ نے ایرانی بجلی کی فراہمی، نیشنل گرڈ سے منسلک امور اور موجودہ بجلی کی طلب و رسد پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس ضمن میں مسائل کے مستقل حل کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔محکمہ فشریز کے ڈائریکٹر نے ساحلی پٹی میں ماہی گیری سے متعلق ٹرالنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل، مچھلی کی پیداوار میں کمی اور اس کی روک تھام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مچھلی کے ذخائر کے تحفظ اور پیداوار میں اضافے کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ نے جیوانی میں بڑی گاڑیوں کے اڈے کے لیے زمین مختص کرنے کا مطالبہ کیا اور جاری اسکیموں پر روشنی ڈالی۔اسی طرح چیف آفیسر میونسپل کمیٹی پسنی نے پسنی میں درپیش بلدیاتی مسائل اور وسائل کی کمی کی نشان دہی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5424/2025
کوئٹہ 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سانحہ 8 اگست 2016 کوئٹہ کے شہید وکلاءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمیں انتہاپسندی اور دہشتگردی کے خلاف وکلاءکی بے مثال قربانی یاد دلاتا ہے انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سول اہسپتال حملے کے شہداءکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ہماری حکومت شہداءکے خون کی حرمت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ شہداءکے وارثوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کیا جائے گا انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ امن دشمنوں کے ناپاک عزائم کو پوری قوم کے اتحاد سے شکست دی جائے گی بلوچستان بار اور وکلاء برادری کی قربانی جمہوری اقدار کی سربلندی کی ایک روشن مثال ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سانحہ میں وکلاء برادری نے اپنے محافظ کھو دیئے، لیکن حکومت نے ان کے بچوں کا ساتھ دیا تاکہ وہ دوبارہ سنبھل کر آگے بڑھ سکیں۔ اس سلسلے میں بیف وکلاء اسکالرشپ اسکیم شہداء کے بچوں کے لیے امید، انصاف اور تعلیم کا وعدہ ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 188 بچے مکمل اسکالرشپ کے تحت اپنی پسند کے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف مالی امداد نہیں بلکہ شہداءکی وراثت اور آئندہ نسلوں سے کیا گیا ایک پختہ عہد ہے کہ ان کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5425/2025
کوئٹہ، 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جمعہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں مختلف عوامی وفود اور علاقائی عمائدین سے ملے وزیر اعلیٰ نے تمام وفود کے مسائل، شکایات اور تجاویز توجہ سے سنیں اور بیشتر مسائل کے حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ محکموں کو واضح اور فوری ہدایات جاری کیں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے کسی بھی ضلع، تحصیل یا گاو¿ں کے عوامی مسائل حکومت کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتے حکومت عوام کو درپیش مسائل کے حل اور ان کو ان کا حق دلانے کے لیے ہر سطح پر کام کر رہی ہے وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام کو بااختیار بنانا اور ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا ہی حکومت کا اصل ہدف ہے انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر سیکرٹریٹ کے دروازے عوام کے لیے کھلے ہیں عوام سے میرا رشتہ نمائندے اور ووٹر کا نہیں بلکہ خدمت گزار اور محسن کا ہے اور یہ رشتہ میری سیاست کی بنیاد ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے میں ترقی کا پہیہ رکے گا نہیں، ہر ضلع اور ہر باسی کو مساوی سہولتیں اور مواقع فراہم کیے جائیں گے اور کوئی شہری اپنے حق کے لیے در بدر نہیں پھرے گا اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکرٹریٹ محمد فریدون خان وزیر اعلیٰ بلوچستان کے اسٹاف افسران زاہد حسین بگٹی , سید امین، پرویز ، حسن علی و دیگر نے عوام کی رہنمائی و معاونت کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کی پیش رفت پر وفود کی رہنمائی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر5426/2025
کوئٹہ، 8 اگست ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار اور فلاحی ادارے کے سربراہ پیٹر ارشد نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور بین المذاہب اتحاد کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا سنجے کمار اور پیٹر ارشد نے وزیر اعلیٰ کو اقلیتی یوم کی مناسبت سے صوبے میں منعقد ہونے والے مجوزہ پروگرامز کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں اور انہیں ان تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت دی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں صوبے کے ترقیاتی عمل اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی یوم کی تقریبات نہ صرف یکجہتی کا پیغام دیں گی بلکہ یہ صوبے میں برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کا عملی مظاہرہ بھی ہوں گی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿























