• جولائی 2025ء کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.2 ارب امریکی ڈالر کی آمد ہوئی۔

08 اگست 2025ء
کارکنوں کی ترسیلات زر برائے جولائی 2025ء کی پریس ریلیز

• جولائی 2025ء کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.2 ارب امریکی ڈالر کی آمد ہوئی۔
• نمو کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں سال بسال بنیادوں پر 7.4 فیصد اضافہ ہوا۔
• جولائی 2025ء کے دوران ترسیلات زر کا بڑا حصہ سعودی عرب (823.7 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (665.2 ملین ڈالر)، برطانیہ (450.4 ملین ڈالر) اور امریکہ (269.6 ملین ڈالر) سے موصول ہوا۔

**

08 اگست 2025ء
پاکستان کے مالی شعبے کی سائبر سیکیورٹی کی استعداد میں تاریخی پیش رفت —پی سی آئی ڈی ایس ایس تربیت کا انعقاد

پاکستان بھر کے مالی اور فِن ٹیک شعبوں میں سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے سلسلے میں ، قومی ادارہ برائے بینکاری و مالیات (نباف پاکستان )نے رسک ایسوسی ایٹس کے اشتراک سے پیمنٹ کارڈ انڈسٹری ڈیٹا سیکیورٹی اسٹینڈرڈ (PCI DSS) پر استعداد کاری (capacity building) کی دو روزہ تربیت فراہم کی،جس کا انعقاد 7 تا 8 اگست 2025ء کو کیا گیا۔

یہ اپنی نوعیت کا اولین اقدام ہے جو اسٹیٹ بینک کی پیش بینی کی بدولت ممکن ہوا، جس کی قیادت ملک کے بینکاری اور ادائیگیوں کے نظام میں ڈجیٹل سیکیورٹی کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے۔ تربیتی سیشن میں سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اور معروف بینکوں و مالی اداروں کے نمائندے شریک ہوئے، جس سے مالی ڈیٹا کے تحفظ اور ڈجیٹل ادائیگیوں پر عوام کے اعتماد کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

رسک ایسوسی ایٹس عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تصدیقی ادارہ اور پی سی آئی کوالیفائیڈ سکیورٹی اسیسسر (QSA) ہے، جس نے PCI DSS v4.0 کے حوالے سے شرکا کو تربیت دی، جس میں تکنیکی مہارت اور قابلِ عمل رہنمائی فراہم کی گئی۔ اس پروگرام میں محفوظ ادائیگی کے ڈھانچے، کارڈ حاملین کے ڈیٹا کے تحفظ، اور کمپلائنس لائف سائیکل مینجمنٹ جیسے اہم شعبوں پر توجہ دی گئی — جودورِ حاضر کے خطرات سے نمٹنے میں اداروں کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ اقدام پاکستان کے مالی نظام، خاص طور پر تیزی سےابھرنے والے فِن ٹیک(fintech) شعبے، میں سائبر سیکیورٹی کی استعداد بڑھانے کے لیے دیرپا عزم کی عکاس ہے۔ اس طرح پاکستان کی جانب سے خطے اور عالمی منڈیوں ، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں کے مالی مراکز ،میں سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اور ہنر مند پیشہ ور افراد فراہم کر نے کے ملکی ہدف کی بھی تکمیل ہوگی ۔

نِباف پاکستان کی شریک سی ای او محترمہ لبنیٰ ملک نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ تربیت نِباف پاکستان کے اس عزم میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے کہ ملک بھر میں پیشہ ور بینکاروں کی سائبر سیکیورٹی کی استعداد کو بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ PCI DSS جیسے بین الاقوامی معیار کو اپنے تعلیمی فریم ورک میں شامل کر کے ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ مالی ادارے عصرِ حاضر کے فعال خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔

تربیتی پروگرام کی تکمیل پر رسک ایسوسی ایٹس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر آفتاب رضوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نباف پاکستان کے ساتھ اشتراک ملک میں سائبرسیکیورٹی کے منظرنامے میں ایک جدت طرازی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسٹیٹ بینک کے وژن کے عین مطابق ان کا ادارہ نہ صرف مالی اداروں کو PCI DSS جیسے عالمی معیارات کے ساتھ بااختیار بنا رہا ہے بلکہ مقامی ماہرین کی استعداد و مہارت بھی بڑھا رہا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی بینچ مارک تک پہنچ سکیں۔

ڈجیٹل ادائیگیوں کے طریقے اپنانے میں آنے والی تیزی کے ساتھ ساتھ حساس ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور اعتماد کی بنیاد پر ترقی کو ممکن بنانے کے لیے PCI DSS جیسے معیاری اور مضبوط سیکیورٹی فریم ورکس لازمی ہیں۔کامیابی کے اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے، رسک ایسوسی ایٹس اور نباف پاکستان باہمی تعاون کادائرہ وسیع کرتے ہوئے سائبر سیکیوٹی گورننس ، ISO/ICE 27001 اور مالی شعبے پر اثر انداز ہونے والے ابھرتے ہوئے خطرات پر مزید جدید تربیت بھی اپنی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

****