کھاریاں سیالکوٹ موٹروے اپڈیٹ | سیالکوٹ کھاریاں راولپنڈی موٹروے | سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا نقشہ


کھاریاں سیالکوٹ موٹروے اپڈیٹ | سیالکوٹ کھاریاں راولپنڈی موٹروے | سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا نقشہ

کھاریاں سیالکوٹ موٹروے اپڈیٹ | سیالکوٹ کھاریاں راولپنڈی موٹروے | سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کا نقشہ
Kharian Sialkot Motorway Update | Sialkot Kharian Rawalpindi Motorway | Sialkot Kharian Motorway Map

کھاریاں-سیالکوٹ موٹروے کی تعمیراتی کام میں تاخیر، مقامی لوگ پریشان

کھاریاں -سیالکوٹ موٹروے کا منصوبہ، جسے ایم ٹویل موٹر وے بھی کہا جاتا ہے، 2022 میں شروع ہوا تھا، لیکن اب تک اس پر کام مکمل نہیں ہو سکا۔ اس موٹر وے کی کل لمبائی 69 کلومیٹر ہے، جس میں 5 انٹرچینجز اور ایک ریسٹ ایریا بننا تھا۔ تاہم، کام کی رفتار انتہائی سست ہے، اور مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ جیٹی روڈ کے قریب انٹرچینج کے گارڈرز تو لگائے جا چکے ہیں، لیکن باقی کام ابھی تک ادھورا پڑا ہے۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ موٹر وے کی تعمیر کی وجہ سے ان کی زرعی زمینیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ بارشوں کے دوران پانی کا نکاس نہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے، جس سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ علاوہ ازیں، زمینوں کے معاوضے بھی مناسب طریقے سے ادا نہیں کیے گئے، جس پر مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا ہے۔ کچھ علاقوں میں تو سڑکیں بھی ٹوٹ چکی ہیں، جس سے روزمرہ کی آمدورفت میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

حکومت کی جانب سے ابتدائی طور پر اس منصوبے کی لاگت 22 ارب روپے تھی، لیکن تاخیر کی وجہ سے اب یہ 400 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔ موٹر وے کو اصل میں 2 لین پر بنایا جانا تھا، لیکن اب اسے 3 لین میں توسیع دینے کا منصوبہ ہے، جس سے اخراجات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ تعمیراتی کمپنی کے کیمپس بھی ختم ہو چکے ہیں، اور سائٹ پر کوئی قابل ذکر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

اس موٹر وے کا بنیادی مقصد جیٹی روڈ پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور سیالکوٹ، گجرات اور راولپنڈی کے درمیان سفر کو آسان بنانا تھا۔ تاہم، کام میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے یہ فوائد حاصل نہیں ہو پا رہے۔ اگر یہ منصوبہ جلد مکمل ہو جاتا ہے، تو نہ صرف ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا، بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی فروغ پائیں گی۔ فی الحال، مقامی لوگ اور مسافر دونوں ہی بہتر سڑکوں کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔
==================

جامعہ کراچی: حالیہ پاک بھارت جنگ ”معرکہ حق” میں افواجِ پاکستان کی شاندار فتح کے بعد ”معرکہ حق“ نمائش کا انعقاد

نمائش میں فن پاروں، پینٹنگز، مجسمہ سازی، انسٹالیشن آرٹ اور دیگر تخلیقی اظہار کے ذریعے عسکری خدمات، قربانیوں اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کیا

جامعہ کراچی کے شعبہ ویژول اسٹڈیز کے طلبہ و طالبات نے حالیہ پاک بھارت جنگ ”معرکہ حق” میں افواجِ پاکستان کی شاندار فتح کے بعد قوم کے ان عظیم محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی فائن آرٹس نمائش کا انعقاد کیا۔ یہ نمائش جامعہ کراچی کے شعبہ ویژول اسٹڈیز کے گیلری ہال میں منعقد ہوئی، جس میں طلبہ نے اپنے فن پاروں، پینٹنگز، مجسمہ سازی، انسٹالیشن آرٹ اور دیگر تخلیقی اظہار کے ذریعے عسکری خدمات، قربانیوں اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کیا۔

نمائش کا عنوان ”معرکہ حق” رکھا گیا، جس میں جامعہ کراچی کے شعبہ ویژول اسٹڈیزسمیت جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے طلباوطالبات کی جانب سے 100 سے زائد فن پارے پیش کیے گئے۔ ہر تخلیق افواج پاکستان کی بہادری، حب الوطنی اور عوامی خدمت کے پہلو کو نہایت تخلیقی اور جذباتی انداز میں بیان کرتی نظر آئی۔

اس موقع پرانچارج شعبہ ویژول اسٹڈیز جامعہ کراچی سیدشمعون حیدرنے کہا کہ یہ فن صرف جمالیاتی حسن کا اظہار نہیں بلکہ ایک قوم کی اجتماعی سوچ اور فکری جہت کا مظہر ہے۔ طلبہ نے نہ صرف فن کے ذریعے اظہار کیا بلکہ یہ ثابت کیا کہ قوم کا ہر فرد، خواہ وہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہو، اپنے محافظوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

طلبہ کے فن پاروں میں شہداء کی تصاویر پر مبنی پورٹریٹس، جنگی مناظر کی مصوری، پاک فضائیہ و بحریہ کی سرگرمیوں پر مبنی تخلیقات، اور ایک خصوصی تھری ڈی انسٹالیشن شامل تھی، جس نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔نمائش میں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے طلباوطالبات کی کثیر تعدادنے حصہ لیا۔
=====================

بلوچستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں صوبے کے ترقیاتی عمل اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ، 08 اگست
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار اور فلاحی ادارے کے سربراہ پیٹر ارشد نے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے میں مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور بین المذاہب اتحاد کو فروغ دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا سنجے کمار اور پیٹر ارشد نے وزیر اعلیٰ کو اقلیتی یوم کی مناسبت سے صوبے میں منعقد ہونے والے مجوزہ پروگرامز کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں اور انہیں ان تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی دعوت دی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان میں بسنے والی تمام اقلیتیں صوبے کے ترقیاتی عمل اور سماجی ہم آہنگی کا اہم حصہ ہیں۔ حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی یوم کی تقریبات نہ صرف یکجہتی کا پیغام دیں گی بلکہ یہ صوبے میں برداشت، رواداری اور بھائی چارے کے فروغ کا عملی مظاہرہ بھی ہوں گی۔