گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر لتاڑنا شروع کر دیا- “آئرلینڈ میں بھارتیوں کے خلاف نسل پرستی: گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر نشانہ بنانا شروع کر دیا”


گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر لتاڑنا شروع کر دیا

“آئرلینڈ میں بھارتیوں کے خلاف نسل پرستی: گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر نشانہ بنانا شروع کر دیا”

Ireland Indian Bad Situation گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر لتاڑنا شروع کر دیا

“آئرلینڈ میں بھارتیوں کے خلاف نسل پرستی: گوروں نے بھارتیوں کو چن چن کر نشانہ بنانا شروع کر دیا”

آئرلینڈ میں حالیہ دنوں میں نسل پرستی کی ایک نئی لہر نے جنم لیا ہے، جس کا نشانہ وہاں مقیم بھارتی اور دیگر ایشیائی تارکین وطن بن رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران کم از کم چھ ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں بھارتیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں نوجوان گورے لڑکوں نے بھارتیوں پر تشدد کیا، انہیں گالیاں دیں اور بعض صورتوں میں زخمی بھی کیا۔

ایک واقعے میں 23 سال سے آئرلینڈ میں مقیم ایک بھارتی سائنسدان ڈاکٹر یادو کو راستے میں روک کر سات آٹھ نوجوانوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے ان کی ایک آنکھ کو نقصان پہنچا۔ ایک اور واقعے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور سکھیندر سنگھ کو سفید فام نوجوانوں نے پیٹا، جس سے وہ بے ہوش ہو گئے۔ اسی طرح ایک 40 سالہ بھارتی شخص کو گالیاں دینے کے بعد نوجوانوں نے بری طرح مارا اور اس کے کپڑے تک اتار دیے۔

سب سے دل دکھانے والا واقعہ ایک چھ سالہ بھارتی بچی نیا کا ہے، جسے کچھ نوجوانوں نے اس لیے مارا پیٹا کہ وہ بھارتی ہے۔ بچی کے والدین نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ زخموں کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہوئی۔

ان واقعات کے بعد بھارتی حکومت نے آئرلینڈ میں مقیم اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ تنہا باہر نہ جائیں، خاص طور پر رات کے وقت۔ تاہم، اب تک آئرلینڈ کی حکومت کی طرف سے کوئی واضح کارروائی نظر نہیں آئی۔

یہ صرف آئرلینڈ تک محدود نہیں، بلکہ آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک میں بھی بھارتیوں کے خلاف نسل پرستی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان نسل اپنی معاشی پریشانیوں کا غصہ غیر ملکیوں پر نکال رہی ہے، خاص طور پر ان لوگوں پر جو وہاں قانونی طور پر کام کر رہے ہیں اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے پورے جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور نیپالی
باشندوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور غیر محفوظ علاقوں میں جانے سے گریز کریں۔
==============================

کراچی پریس کلب

کشمیری رہنماؤں کی زندگی خطرے میں ہے بھارت انہیں جیل میں مارنا چاہتا ہے، مشعال ملک
بھارت کے پاس پہلگام واقعے کی کوئی توجیح نہیں یہ انہوں نے خود کرایا تھا مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی ممکن ہے، کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر)حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کشمیری رہنمائوں کی زندگی خطرے میں ہے، بھارت انہیں جیل میں مارنا چاہتاہے،بھارت کے پاس پہلگام واقعے کی کوئی توجیح نہیں یہ انہوں نے خود کرایا تھا۔مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔کشمیر کا خطہ وہ جگہ ہے جہاں صرف آہنی پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سی پی ایل سی کے سابق سربراہ اور بزنس کمیونٹی کے معروف رہنما احمد چنائے بھی موجود تھے ۔مشعال ملک نے کہا کہ میرے لئے کراچی پریس کلب میں خطاب کرنا اعزاز کی بات ہے ۔کراچی آتے ہی مجھے بہت پیار اور محبت ملی ہے ۔آپ صحافیوں نے مسئلہ کشمیر کو بہت اہمیت دی ہے ۔سب کو سچ دکھانا کراچی پریس کلب کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی آنے کا مقصد 5 اگست کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا ۔میں نے بابائے قوم کے مزار سے اس جدوجہد کا آغاز کیا ۔یاسین ملک تہاڑ کی جیل میں ہیں ۔ہمیں یاسین ملک سے جدا ہوئے 11سال ہوگئے ہیں۔شاید ہی دنیا کی تاریخ میں یاسین ملک جیسا قیدی دیکھا ہوگا،انہیں فیملی سے بات کی اجازت نہیں ۔ججز ایک کے بعد ایک فیصلہ سنا رہے ہیں۔یاسین ملک پر بہت تشدد کیا گیا ہے ۔ان کے جسم میں مختلف ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں ۔مقبوضہ کشمیر میں جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو بند کردیا گیا ہے ۔وہاں صحافت کی آزادی نہیں ہے ۔باہر کی دنیا بھی اس ساری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سال کے جعلی الیکشن بھی دنیا کے سامنے ایکسپوز ہوچکے ہیں ۔اس الیکشن کو کور کرنے کے لئیے آزاد میڈیا وہاں موجود نہیں تھا ۔آپ سے کہتی ہوں کہ آپ لوگ مقبوضہ کشمیر کے صحافیوں کی آواز بنیں ۔مشعال ملک نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی ممکن ہے ۔کشمیریوں کے حقوق کے لئیے وکلا کی جدوجہد کا شروع ہونا ضروری ہے ۔صحافی حضرات مقبوضہ کشمیر سے آنے والی معلومات کا تجزیہ کریں اور اسے دوسروں سے شیئر کریں۔انہوں نے کہا کہ وکلا کی جدوجہد کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔عالمی عدالت انصاف سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ہمارے تمام قانونی حقوق وہاں ختم کردئیے گئے ہیں۔کشمیر کا خطہ وہ جگہ ہے جہاں صرف آہنی پردے پڑے ہوئے ہیں ۔بھارت پانی کو اب ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا بھی بھارت کا پرانا حربہ ہے ۔ہم نے کرکٹ ڈپلومیسی اور ٹریڈ ڈپلومیسی بھی دیکھ لی ہے ۔جب نتیجہ نکلنے کا وقت آتا تو بھارت کی فوجی کارروائی شروع ہو جاتی ۔بھارت کے پاس پہلگام واقعے کی کوئی توجیح نہیں یہ انہوں نے خود کرایا تھا۔میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی شکر گزار ہوں کہ ان کی وجہ سے دنیا کو حقائق کا علم ہوگیا ۔چین نے بھی اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کی بات کی۔ہماری پوری قیادت جیل میں بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کی کوشش ہے کہ یاسین ملک کی فیملی کو باہر کی دنیا تک رسائی نہ دی جائے ۔میں دنیا کو براہ راست مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں ۔چاہتی ہوں کہ باہر جانے والے وفود میں کشمیری اس کی قیادت کریں ۔میں ملک بھر میں بھی دورے کروں گی۔قبل ازیں کراچی پریس کلب آمد پرسیکرٹری سہیل افضل خان ،خازن عمران ایوب ،جوائنٹ سیکرٹری محمد منصف ،گورننگ باڈی کے ارکان مونا صدیقی ،عبدالحفیظ بلوچ ،محمد فاروق ،سابق سیکرٹری محمد رضوان بھٹی ،کے یو جے دستور کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری عبدالرحمن نے ان کا استقبال کیا ۔اس موقع پر سیکرٹری سہیل افضل خان نے انہیں کراچی پریس کلب کی تاریخ اور آزادی اظہار رائے کے لیے کی جانے والی کاوشوں سے آگاہ کیا ۔سہیل افضل نے کہا کہ ایم آر ڈی کی تحریک سمیت بیشتر تحریکوں کا آغاز کراچی پریس کلب سے ہواہے کراچی پریس کلب ملک بھر کے مظلوموں کی آواز ہے ۔مک میں جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کے لیے کراچی پریس کلب نے ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے ۔
عبدالرحمن
0321-2115504
سیکرٹری پریس اینڈ انفارمیشن کمیٹی کراچی پریس کلب