سبی میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ

بلوچستان کے ضلع سبی میں ریلوے لائن کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے جعفر ایکسپریس ٹرین ایک بڑے حادثے سے بچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹریک عبور کر چکی تھی، جس کے باعث ٹرین محفوظ رہی اور کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

بلوچستان میں سرگرم کالعدم شدت پسند گروہ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں، بلکہ دو روز قبل بھی اسی ٹرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس حملے کے باعث ٹرین کو بروقت روک لیا گیا تھا، جب کہ بی ایل اے — جسے بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے — نے اس حملے کا بھی اعتراف کیا تھا۔

4 اگست کو ایک اور کوشش کے دوران جب ٹریک کی سیکیورٹی کے لیے کوئٹہ سے ایک پائلٹ انجن بھیجا گیا، تو کولپور کے قریب واقع ٹنل نمبر 16 کے قریب اس پر فائرنگ کی گئی۔ حملے میں پائلٹ انجن کو پانچ گولیاں لگیں تاہم ڈرائیور اور عملہ محفوظ رہے۔ انجن کو بعد ازاں بحفاظت دوزان ریلوے اسٹیشن منتقل کر دیا گیا اور واقعے کی تفتیش شروع کر دی گئی۔

ریلوے انتظامیہ کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جعفر ایکسپریس سے قبل ایک پائلٹ انجن چلایا جاتا ہے تاکہ راستے کی کلیئرنس یقینی بنائی جا سکے۔ حملے کے باوجود ٹرین سروس کو زیادہ دیر متاثر نہیں ہونے دیا گیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ کے علاقے شکارپور کے نزدیک بھی جعفر ایکسپریس کو حادثے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں ٹریک پر دھماکے کے باعث ٹرین کی تین بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ٹریک کو شدید نقصان پہنچا اور ریل سروس کچھ وقت کے لیے معطل رہی۔