پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں جوئے اور آن لائن شرط لگانے کے رجحان پر قابو پانے کے لیے 184 ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز کو بلاک کر دیا ہے۔
یہ انکشاف قومی اسمبلی کے ایک اجلاس میں کابینہ ڈویژن کی طرف سے جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ ان غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے کی جانب سے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تحریری جواب میں انچارج وزیر کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان پلیٹ فارمز تک رسائی روک دی گئی ہے، لیکن جو افراد ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کے خلاف براہ راست کارروائی کرنا پی ٹی اے کے اختیارات میں شامل نہیں۔
کابینہ ڈویژن نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ غیر قانونی ڈیجیٹل مواد کی مکمل روک تھام کے لیے پی ٹی اے کے پاس محدود قانونی طاقت موجود ہے، اور اس حوالے سے مزید قانون سازی اور بین الادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی ملک کے تمام اداروں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ کسی ایسی کمپنی یا آن لائن پلیٹ فارم کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں جو جوئے یا سٹے بازی میں ملوث ہو۔
یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب آن لائن گیمنگ اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے نوجوان طبقہ تیزی سے غیر قانونی ویب سائٹس کا شکار بن رہا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔























