لکھنؤ میں نئی نویلی دلہن پراسرار طور پر ہلاک، شوہر گرفتار

بھارتی ریاست اُتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایک نوجوان خاتون، جو مرچنٹ نیوی آفیسر کی بیوی تھی، شادی کے صرف پانچ ماہ بعد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے شوہر انوراگ سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق، 32 سالہ مدھو سنگھ کی شادی رواں برس 25 فروری کو انوراگ سنگھ سے ہوئی تھی، جو ہانگ کانگ میں ایک شپ مینجمنٹ کمپنی میں سیکنڈ آفیسر کے طور پر کام کرتا ہے۔

مدھو کے والد، فتح بہادر سنگھ، نے پولیس کو بتایا کہ انوراگ نے شادی کے وقت 15 لاکھ روپے جہیز کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ ان کا خاندان صرف 5 لاکھ روپے دینے کی استطاعت رکھتا تھا۔ انہوں نے پولیس کو کچھ واٹس ایپ پیغامات بھی فراہم کیے جن میں انوراگ کو مسلسل مزید رقم کے لیے دباؤ ڈالتے اور تقاضے کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

فتح بہادر کے مطابق، شادی کے فوراً بعد ہی مدھو کے ساتھ ناروا سلوک شروع ہو گیا تھا۔ ہولی کے تہوار کے بعد، وہ مار پیٹ کے باعث والدین کے گھر واپس آئی۔ بعد میں جب مدھو کے والد نے کچھ مزید رقم ادا کی تو انوراگ نے اسے دوبارہ بلا لیا، لیکن بدسلوکی کا سلسلہ نہ رکا۔

مدھو کی بہن پریا کے مطابق، مدھو خوش مزاج، زندہ دل اور ہنسی خوشی رہنے والی لڑکی تھی۔ لیکن اس کا شوہر اسے کسی سے بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، وہ اس کی فون کالز، میسجز، حتیٰ کہ اس کے آن لائن شاپنگ آرڈرز تک چیک کرتا تھا۔ بہنیں اسی وقت بات کر پاتی تھیں جب انوراگ شہر سے باہر ہوتا۔

پریا نے مزید بتایا کہ مدھو نے آخری بار گفتگو کے دوران بتایا کہ انوراگ نے اس پر تشدد کیا کیونکہ وہ گاڑی سڑک کے بائیں طرف چلا رہی تھی اور انوراگ کو شک ہوا کہ وہ باہر کھڑے مردوں کو دیکھ رہی ہے۔

پولیس کو فراہم کی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ میں مدھو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ: “مجھے بہت مارا کیونکہ میں نے اس کے سامنے شراب کی بوتل نہیں رکھی تھی۔”

مدھو کے والد نے الزام لگایا کہ انوراگ کا کسی سابق محبوبہ سے تعلق اب بھی جاری تھا، جس نے ان کی بیٹی کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا۔ مدھو کے اہل خانہ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ حاملہ تھی، لیکن انوراگ نے زبردستی اس کا حمل ضائع کروایا۔

شکایت کے مطابق، 3 اگست کو مدھو نے اپنی بہن کو فون کر کے ایک بار پھر شوہر کے تشدد کے بارے میں بتایا، اور اگلے دن یعنی 4 اگست کی شام 4:32 پر انوراگ نے پولیس کو اطلاع دی کہ مدھو نے خودکشی کر لی ہے۔

مدھو کے والد کا ماننا ہے کہ ان کی بیٹی نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے مارا گیا ہے۔ پولیس نے انوراگ کو جہیز اور گھریلو تشدد سے متعلق قوانین کے تحت گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق مدھو کی موت کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور معاملے کے ہر پہلو کو باریکی سے دیکھا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔