اتراکھنڈ میں شدید بارشوں کے بعد سیلابی تباہی

بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے سرحدی ضلع اترکاشی میں چینی بارڈر کے قریب واقع علاقے میں شدید بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے کم از کم چار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ ایک سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں، جن میں انڈین فوج کے کئی اہلکار بھی شامل ہیں۔

بھارتی نائب وزیر دفاع سنجے سیٹھ نے “پریس ٹرسٹ آف انڈیا” کو بتایا کہ موجودہ صورتحال خاصی نازک ہے۔ ہمیں چار ہلاکتوں اور تقریباً 100 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں۔

سیلابی ریلہ دریائے کھیر گنگا کے کنارے واقع معروف سیاحتی مقام دھرالی گاؤں کو شدید متاثر کر گیا۔ دھرالی ہندو مذہب کی مشہور چار دھام یاترا کے راستے پر واقع ہے، جہاں متعدد ہوٹل اور رہائشی عمارتیں واقع ہیں۔

بادل پھٹنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بارش نے گاؤں میں تباہی مچائی۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے اترکاشی اور ملحقہ علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا اور بتایا کہ 24 گھنٹوں کے دوران کچھ مقامات پر 300 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی۔

واقعے کی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیچڑ اور چٹانوں سے بھرا پانی تیزی سے دھرالی کی طرف بڑھتا ہے اور کئی مکانات اور دکانیں بہا لے جاتا ہے۔ ڈی آئی جی این ڈی آر ایف محسن شہیدی نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق 40 سے 50 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل منیش سریواستو کے مطابق 14 راجپوتانہ رائفلز کے کرنل ہرش وردھن اپنے 150 جوانوں کے ہمراہ امدادی کارروائیوں کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم ان کا یونٹ بھی طوفانی بارشوں سے متاثر ہوا ہے۔ کیمپ میں پانی داخل ہونے کے باعث 11 فوجی لاپتہ ہوئے جن میں سے دو بعد میں محفوظ مل گئے، باقی 9 اب بھی غائب ہیں۔

آفت زدہ علاقے کے قریب ایک فوجی کیمپ بھی قائم ہے، جہاں سے بھارتی فوج کے پبلک انفارمیشن ڈائریکٹوریٹ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صورتحال سے آگاہ کیا۔

بریگیڈیئر مندیپ ڈھلوں کے مطابق ہرشل پوسٹ پر تعینات فوجی اہلکاروں نے صرف 10 منٹ میں متاثرہ علاقے میں پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔ اب تک تقریباً 20 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث فوجی کیمپ کا کچھ حصہ اور امدادی ٹیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہی کی شدت سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ کرنل ہرش وردھن نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں تیزی لانے کے لیے فوجی دستوں کے علاوہ ٹریکر کتے، ڈرون، اور ملبہ ہٹانے والا ساز و سامان بھی روانہ کیا گیا ہے۔ فوج اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹر بھی امدادی مشن میں شامل ہیں، جن کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء متاثرہ افراد تک پہنچائی جا رہی ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں کو پانی کی بلند سطح کے باعث محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ریاستی وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو ٹیگ کرتے ہوئے ایکس پر پیغام جاری کیا کہ ریاستی حکومت کی نگرانی میں امدادی ٹیمیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور عوام کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی۔

ادھر کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اس سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی اپیل کی ہے۔

دھرالی کا علاقہ چینی سرحد کے قریب واقع ہرشل وادی کے نزدیک ہے، جہاں کلپ کیدار نامی مشہور مندر بھی واقع ہے۔ چار دھام یاترا کے دوران عقیدت مند یہاں قیام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے علاقہ سیاحتی اور مذہبی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔

خیال رہے کہ ہمالیائی ریاستوں اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش میں حالیہ برسوں میں بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین اس کی بنیادی وجوہات میں جنگلات کی کٹائی، بے ہنگم تعمیرات اور موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر ہماچل پردیش میں ماحولیاتی توازن کو برباد کرنے والے اقدامات جاری رہے تو وہ دن دور نہیں جب یہ پورا علاقہ نقشے سے مٹ جائے گا۔